مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 182
182 بدانند بر سرمان مجد دے گزشته است اما مجدد مائکه دیگر است و مجددالف دیگر - چنانچه در میان مائة و الف فرق است در مجددی اینها نیز هما قد ر فرق است بلکه زیاده از اں و مجدد آن است که هر چند در آن مدت از فیوض بامتان برسد بتوسط او برسد اگر چه اقطاب واو تار وقت بونده بدلا ونجا باشند ۱۲ ( ترجمہ ) اگر کوئی کہے کہ ان معارف کو جو ولیوں کی ولایت کے محل سے چہرہ نمائی کرتے ہیں کون سمجھ سکتا ہے یا کون ان کی گنہ کو پاسکتا ہے۔سو یا در ہے کہ ظاہر پرست علماء ان معارف کے ادراک سے عاجز ہیں اور ان کی حقیقت کے پانے سے قاصر ہیں۔یہ علوم بھی حاصل نہیں ہوتے بلکہ نبوت کے مشکوۃ سے حاصل ہوتے ہیں۔جو انبیاء کی کامل پیروی کرنے کے بعد بطور وراثت عطا ہوکر دوسرے ہزار کی تجدید کیلئے تر و تازہ ہو گئے ہیں۔جس شخص کو یہ علوم و معارف ملے ہیں وہ اس صدی کا مجدد ہے۔چنانچہ یہ بات ان لوگوں پر مخفی نہیں جنہوں نے اس کے علوم پر نظر کی ہے اور ان معارف کو ملاحظہ کیا ہے جو اس شخص کی ذات اور صفات اور افعال کے متعلق ہیں اور نیز اس کے حالات اور مواجید اور تجلیات اور ظہورات کو دیکھا ہے اور یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ یہ تمام صفات اس پوست کا ایک ذرہ ہیں جو اس شخص کو دیئے گئے ہیں یعنی جو کچھ اب تک لوگوں نے دیکھا ہے یہ بہت قلیل ہے۔اس کی شان اس سے بڑھ کر ہے اور یہ خاص اسی پاک ذات کا فضل ہے جس نے لوگوں کو ہدایت کیلئے ایک ہادی بھیجا ہے۔لہذا فی الحقیقت وہ اس ذات کا فضل ہے جس نے لوگوں کی ہدایت کیلئے ایک ہادی بھیجا ہے۔لہذا فی الحقیقت وہ ذات ہی ہادی کہلانے کے لائق ہے۔لیکن صدی کا مجد داور الف کا مجد د مختلف ہے یعنی جس طرح سو اور ہزار میں فرق ، اس طرح ان کے مجددوں میں بہت فرق ہے۔اور مجد دوہ شخص ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جس قدر فیض اُمتوں کو پہنچتا ہے وہ صرف اُسی مجدد کے توسط اور وسیلہ سے پہنچتا ہے۔خواہ اس زمانے کے قطب اور اوتار اور ابدال اور انجباء بھی موجود ہوں۔آپ کی تجدید کا خلاصہ یہ ہے۔ا۔آپ نے غرباء کی ایک جماعت تیار کی جو اسلامی روایات کی حامل تھی۔۲۔اہم علم سنجیدہ طبقہ میں اپنی تحریرات و تقاریر کے ذریعہ ایک ذہنی انقلاب پیدا کیا اور علمی استدلال سے خوب کام لیا۔۳۔امراء و حکمرانوں کو خطوط لکھ کر انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔