مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 21 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 21

21 فرید الدین صاحب گنج شکر ہوئے ، حضرت سید احمد صاحب بریلوٹی ہوئے ، حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجددالف ثانی ہوئے۔یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کا قرب پا کر آیات مبینت کا مقام حاصل کر گئے اور ان میں سے ہر شخص کو دیکھ کر لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے تھے۔پھر جب ان کا نور دھندلا ہوا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے اندر پیدا کیا اور آپ کا وجود ہمارے لئے آیات مبینت بن گیا۔۳۸ مجدد کے آنے کا وقت اس ضمن میں ایک سوال یہ ہو سکتا ہے کہ مجد د کب آتا ہے؟ اس کیلئے اصولی جواب تو یہ ہے کہ جب بھی فتنے اتنے بڑھ جائیں کہ ایک مصلح کی ضرورت محسوس ہوگی تو خدا مجدد بھیجے گا۔حدیث مسجد دین میں فرمایا ہے کہ على رأس كل مائة کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا۔جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک صدی کے کئی مجد د نظر آتے ہیں۔لہذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ صدی کے سر پر تو ضرور مجدد آئے گا اور اس کے علاوہ دورانِ صدی بھی مجدد آسکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجدد کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں:۔”اے غافلوں کے گرو ہو! تمہیں معلوم ہے کہ خدا دین کو ضائع نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کی سنت اور عادت اسی طرح پر جاری ہے کہ جب تاریکی کا زمانہ آجائے اور دین اسلام تیروں کا نشانہ ٹھہرایا جاوے اور اس پر خواص و عام کی زبانیں جاری ہوں اور لوگ ارتداد کے طریقے اختیار کریں اور زمین میں غایت درجہ کا فساد ڈال دیں۔پس اس وقت قیومیت الہی توجہ فرماتی ہے کہ تا دین کی حفاظت کرے اور اللہ کا کوئی بندہ اس کی اعانت کیلئے کھڑا کر دیتا ہے۔پس وہ دین اسلام کو اپنے علم اور صدق اور امانت کے ساتھ تازہ کر دیتا ہے اور خدا اس مبعوث کوز کی اور لائق فیض بناتا ہے اور اس کی آنکھ کھولتا ہے اور اس کو تازہ بتازہ علم بخشتا ہے اور نبیوں کے علموں کا اس کو وارث ٹھہراتا ہے۔پس وہ ایسے پیراؤں میں آتا ہے جو فسا دزمانہ کے پیرایوں کے مقابل پر ہوتے ہیں اور وہی کہتا ہے جو خدا کی زبان نے اسے سکھایا ہواور مبداء فیضان سے کئی قسم کے علم اس کو دیے جاتے ہیں جو زمانہ کے فساد کے موافق ہیں“۔۳۹ پھر حضور اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ مجد وظلماتی زمانے میں آتا ہے اور صدی کے دوران