مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 14 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 14

14 میں اسی حدیث کے تحت لکھا ہے۔هذا الحديث اتفق الحفاظ على الصحيح منهم الحاكم فی المستدرک و البیهقی فی المدخل۔کہ اس حدیث کے صحیح ہونے پر جن حفاظ میں اتفاق کیا ہے ان میں سے حاکم ( مستدرک میں ) اور بیہقی ( مدخل میں ) ہیں۔اسی طرح تنبیہہ میں جلال الدین سیوطی نے لکھا اتفق الحفاظ على صحته حفاظ نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔رسول کریم ﷺ کی یہ عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی اور ہر صدی کے سر پر مجد دین آتے رہے۔دراصل یہ حدیث قرآن کریم کی آیت انسا نحن۔۔۔کی شرح ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے۔۳۰ اسلام کی میراث یہی طائفہ ہے جس نے جہالت اور مادیت کا مقابلہ کیا۔امت میں ایمانی روح پیدا کی اور قرآن جیسی لازوال ثروت کی حفاظت کی۔اس آب زلال کے چشمے رواں دواں کیسے۔نئے فلسفوں کا ابطال کیا۔علوم حدیث وفقہ کی تدوین کا کام انجام دیا، اجتہاد کا دروازہ کھولا ، امت کو شریعت کا گمشدہ خزانہ اور معاشرے کا منظم قانون یاد دلایا۔معاشرے میں احتساب کا فرض ادا کیا۔انحراف اور کج روی پر مکمل تنقید کی۔صحیح حقیقی اسلام کی بر ملا دعوت دی جس نے شکوک وشبہات کے پردے چاک کر دیے۔اضطراب کے زمانے میں علمی طرز استدلال اختیار کر کے دماغوں کو اطمینان بخشا، دعوت و تذکیروانذار و تبشیر میں انبیاء کی روش اختیار کی۔ایمان و عمل کی دبی ہوئی چنگاریوں کو شعلہ جوالہ کی حرارت و تمازت بخشی جس نے مادہ پرستی کے تند و تیز دھارے کی بلا خیزی کم کی۔اپنی دعوت اور دام محبت سے اس دشمن کو شکار کیا جو زمہ شمشیر اور نوک خنجر سے زیر نہ ہو سکا۔اس طائفہ میں ہر شخص اسلام کی کسی نہ کسی سرحد کا محافظ اور نگہبان تھا۔حدیث کا مطلب اور حکمت نواب صدیق حسن خانصاحب لکھتے ہیں کہ :- اس حدیث سے غرض یہ ہے کہ کوئی صدی مجدد سے خالی نہیں ہوگی اور عملاً بھی ہر صدی کے اول و آخر اور وسط میں مسجد دین کے وجود سے یہ بات ثابت ہے۔نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہرصدی میں صرف ایک مجدد کا آنا مراد نہیں بلکہ مجددین کی ایک جماعت مراد ہے۔اور پھر تجدید کے لفظ میں