مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 5
ہے اور بہتوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔۱۲ مجددین کے آنے کا ثبوت قرآن وحدیث سے جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ تجدید ہر شے کیلئے ضروری ہے۔امت محمدیہ چونکہ قیامت تک ہے اور اس کا تعلق بھی ہر قوم سے ہونا تھا اس لئے لازم تھا کہ اس میں بھی تغیر وانقلاب ضرور ہو۔اس مکان و زماں کی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے خدائے ذوالعرش نے امت محمدیہ کیلئے دو انتظام فرمائے ہیں۔ایک طرف تو ہادی عالم کے ہاتھ میں وہ شریعت عزادی جس کی ضیا پاشیاں قیامت تک ممتد ہیں اور دوسری طرف مجددین کا سلسلہ شروع کر دیا اور ہر صدی پر ایسے افراد آتے رہے جو اس شمع نور کے امین بنے رہے۔انہوں نے قرآن کی لو کی حفاظت کی اور اسے بلند تر اور روشن تر کیا۔ظلمتیں کا فور ہوئیں اور نور جلوہ فگن ہوا۔قرآن مجید نے جابجا ارشاد فرمایا کہ امت میں روحانی خلیفے اور مجددین آتے رہیں گے۔چنانچہ سورہ نور میں فرمایا و عدالله الذين امنوا منكم وعملو الصالحت ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلكم۔۔ومن كفر بعد ذلک فاولئک هم الفاسقون ( ١٣ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔باطنی طور پر ان آیات میں خلافتِ روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک خوف کی حالت میں کہ جب محبت الہیہ دلوں سے اُٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ رو بہ دنیا ہو جائیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہو تو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا روحانی خلیفوں کو پیدا کرتارہے گا کہ جن کے ہاتھ پر روحانی طور پر نصرت و فتح دین کی ظاہر ہو اور حق کی عزت اور باطل کی ذلت ہو۔تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہو جانے کا اندیشہ سے امن کی حالت میں آجائیں“۔۱۴ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحفظون - ١٥ اس میں اللہ تعالیٰ نے حفاظت قرآن کا وعدہ فرمایا ہے اور حفاظت خدا نے دو طرح فرمائی لفظی حفاظت تو قرآن کو تغیر و تبدل سے بچا کر اور حفاظ کے ذریعہ ہوئی جبکہ معنوی حفاظت مجددین کے ذریعے