مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 332
332 وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل واعلیٰ وارفع واجلی واصفی تھے اس لئے خدائے جل شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ و دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھاوہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقومی و اکمل وارفع واتم ہوکر صفات الہیہ کے دکھلانے کیلئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔سرمه چشم آریہ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 71) مجد داعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ”ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کیلئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اُتار کر تو حید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت ہ کے نصیب نہیں ہوئی۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206) وو ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دُعائیں وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گز را کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہو گئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بیکس