مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 330
330 نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ”میرا امذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو الگ کیا جا تا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ہو نے کی ، ہرگز نہ کر سکتے۔ان میں وہ دل وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو ملی۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراء کرے گا۔میں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو اعظم سمجھتا ہوں۔لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے۔ہمارے نبی کریم ﷺ نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ذلک فضل الله يوتيه من يشاء“۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 420 (نیا ایڈیشن) اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمر دنبی اور زندہ نبی اور خدا تعالیٰ کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نہی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔یعنی وہی نبیوں کا سردار۔رسولوں کا فخر۔تمام مرسلوں کا تاج۔جس کا نام محمد مصطفی واحمد مجتبی م وہ ہے۔جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی“۔(سراج منیر صفحہ 72) اعلیٰ درجہ کا نور وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا۔یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا، آفتاب میں نہیں تھا ، وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ، وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی کامل انسان میں۔جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء وسید الا حیاء محمد مصطفی ﷺ ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160)