مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 326 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 326

326 پر ہر موقع پر ہرگز عمل نہیں ہوسکتا۔اس موقع پر مجھے مصر کا ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔کہتے ہیں ایک پادری صاحب وعظ کیا کرتے تھے۔دیکھو مسیح نے کیسی اعلیٰ تعلیم دی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو۔ایک دن مجمع میں سے ایک مصری نے نکل کر پادری صاحب کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کر دیا۔پادری صاحب اس پر بہت غصے ہوئے اور اسے مارنے کیلئے آگے بڑھے۔اس مصری مسلمان نے کہا کہ مسیح کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے تو تمہیں دوسرا گال بھی میری طرف پھیرنا چاہیے تھا تا کہ میں اس پر بھی طمانچہ ماروں۔پادری صاحب نے جواب دیا کہ نہیں اس وقت تو میں مسیح کی تعلیم پر عمل نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم پر عمل کروں گا ورنہ تم لوگ بہت دلیر ہو جاؤ گے۔پس جیسا کہ عقل بتاتی ہے اور جیسا کہ مسیحی لوگوں کا طریق عمل بتاتا ہے اس تعلیم پر ہمیشہ عمل نہیں ہوسکتا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ثابت کیا کہ حضرت مسیح کی تعلیم نامکمل ہے اور اس پر ہر وقت اور ہر زمانہ میں عمل نہیں کیا جاسکتا۔اس کے مقابلہ میں آپ نے بتایا کہ قرآن کی تعلیم کامل ہے اور ہر زمانہ اور ہر وقت کیلئے ہے۔(5) پانچویں غلطی حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے متعلق تھی۔جس میں مسلمان اور یہود اور عیسائی سب مبتلا تھے۔مسلمان کہتے تھے کہ یہود نے حضرت مسیح کی بجائے کسی ور کو صلیب پر لٹکا دیا تھا اور انہیں خدا نے آسمان پر اٹھالیا تھا۔یہود اور عیسائی کہتے تھے کہ حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا کر مار دیا گیا تھا۔مسلمانوں کے خیال کو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح رڈ کیا که فرمایا :- حضرت مسیح کی بجائے کسی اور کو صلیب پر لٹکا ناصریح ظلم تھا اور اگر اس شخص کی مرضی سے لٹکایا گیا تھا تو اس کا ثبوت تاریخ میں ہونا چاہیے۔پھر اگر مسیح کو خدا نے آسمان پر اٹھالینا تھا تو کسی اور غریب کو صلیب پر چڑھانے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ پس یہ غلط ہے کہ مسیح کی جگہ کسی اور کو صلیب پر لٹکایا گیا اور یہ بھی کہ انہیں آسمان پر اٹھالیا گیا۔دوسری طرف آپ نے یہود اور مسیحیوں کی بھی تردید کی کہ مسیح صلیب پر مر گیا اور ثابت کیا کہ حضرت مسیح کو صلیب سے زندہ اتار لیا گیا تھا اور اس طرح خدا نے ان کو لعنتی موت