مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 308 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 308

308 طور پر حضرت سلیمان کے ایک واقعہ کو لیتا ہوں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک محل ایسا تیار کر ایا جس کا فرش شیشے کا تھا اور اس کے نیچے پانی بہتا تھا۔ملکہ سبا جب ان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے اس میں داخل ہونے کو کہا لیکن ملکہ نے سمجھا کہ اس میں پانی ہے اور وہ ڈری۔مگر حضرت سلیمان نے بتایا کہ ڈرو نہیں یہ پانی نہیں بلکہ شیشہ کے نیچے پانی ہے۔قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں۔قيل لها ادخلي الصرح فلما راته حسبته لجة و كشفت عن ساقيها قال انه صرح ممرد من قوارير قالت رب انی ظلمت نفسی و اسلمت مع سليمن لله رب الـعـالـمـين (النمل: 45) یعنی سبا کی ملکہ کو حضرت سلیمان کی طرف سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جا۔جب وہ داخل ہوئی تو اسے معلوم ہوا کہ فرش کی بجائے گہرا پانی ہے اس پر اس نے اپنی پنڈلیوں کو نگا کر لیا یا یہ کہ وہ گھبرا گئی۔تب حضرت سلیمان نے اسے کہا کہ تمہیں غلطی لگی ہے۔یہ پانی نہیں۔پانی نیچے ہے اور او پر شیشہ کا فرش ہے۔تب اس نے کہا اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ سب جہانوں کے رب اللہ پر ایمان لاتی ہوں۔مفسرین ان آیات کے عجیب و غریب معنی کرتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔مگر جنوں نے انہیں خبر کر دی تھی کہ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں۔حضرت سلیمان نے اس کی پنڈلیاں دیکھنے کیلئے اس طرح کا محل بنوایا۔مگر جب اس نے پاجامہ اٹھایا تو معلوم ہوا کہ اس کی پنڈلیوں پر بال نہیں ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ پنڈلیوں کے بال دیکھنے کیلئے حضرت سلیمان نے اس قدرا نتظام کیا کرنا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اس ملکہ کا تخت منگایا تھا۔اس پر انہوں نے خیال کیا کہ میری ہتک ہوئی ہے کہ میں نے اس سے تخت مانگا۔اس ہتک کو دور کرنے کیلئے آپ نے ایسا قلعہ بنوایا تا کہ وہ اپنی وقعت قائم کر سکیں۔مگر کیا کوئی سمجھدار کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں ایسی اہم ہیں کہ خدا کے کلام اور خصوصاً آخری شریعت کے کامل کلام میں ان باتوں کا ذکر کیا جائے جن کا نہ دین سے تعلق ہے نہ عرفان سے۔اور کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبی ایسے امور میں جن کو یہاں بیان کیا گیا ہے مشغول ہو سکتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کی تشریح فرمائی ہے کہ اس نے حقیقت کو ظاہر کر دیا