مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 304
304 یعنی چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔چنانچہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔اسی طرح اس کا یہ بھی مطلب تھا کہ پہلے زمانہ میں قوموں کو ایک دوسرے سے وحشت تھی۔آپس میں تنظر تھا۔اب ایسا وقت آیا کہ ایک دوسرے سے تار اور ریل اور جہازوں کے ذریعہ ملنے لگ گئے ہیں۔اسی طرح یہ پیشگوئی تھی کہ واذا البحار سجرت (التکویر: 8) کہ دریا خشک ہو جائیں گے۔اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ قیامت کے دن زلزلے آئیں گے اس وجہ سے دریا سوکھ جائیں گے۔حالانکہ قیامت کے دن تو دنیا نے ہی تباہ ہو جانا تھا، دریاؤں کے سوکھنے کا کیا ذکر تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا مطلب یہ بتایا کہ دریاؤں کے سوکھنے سے مراد یہ تھی کہ ان میں سے نہریں نکالی جائیں گی۔اسی طرح یہ پیشگوئی تھی کہ واذ النفوس زوجت (التکویر:8 ) مختلف لوگوں کو آپس میں ملا دیا جائے گا اس کے یہ معنے کئے جاتے تھے کہ قیامت کے دن سب لوگوں کو جمع کر دیا جائے گا۔مرد و عورت اکٹھے ہو جائیں گے۔حالانکہ قیامت کے دن تو اس زمین نے تباہ ہو جانا تھا۔اس میں لوگوں کے اکٹھے ہونے کی کیا صورت ہو سکتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی تشریح یہ فرمائی کہ ایسے سامان اور ذرائع نکلنے کی اس آیت میں پیشگوئی کی گئی تھی جن کے ذریعہ سے یہاں سے بیٹھا ہوا شخص دور دراز کے لوگوں سے باتیں کر سکے گا۔اب دیکھ لو ایسا ہی ہو رہا ہے یا نہیں۔اسی طرح آپ نے قرآن کریم کی مختلف آیات سے ثابت کیا کہ ان میں صحیح علوم طبعیہ کا ذکر موجود ہے۔مثلاً والشمس وضحها والقمر اذا تلها (الشمس: 3-2) کی آیت میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ چاند اپنی ذات میں روشن نہیں بلکہ سورج سے روشنی لیتا ہے۔غرض آپ نے بیسیوں آیات سے بتایا کہ قرآن کریم میں مختلف علوم کی طرف اشارہ ہے۔جنہیں ایک زمانہ کے ہی لوگ نہیں سمجھ سکتے۔بلکہ اپنے اپنے وقت پر ان کی پوری سمجھ آ سکتی ہے۔اسی طرح زمانہ جوں جوں ترقی کرتا جائے گا قرآن کریم میں سے نئے علوم نکلتے چلے جائیں گے۔چنانچہ آج آپ کے بتائے ہوئے ان اصولوں کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کا ایسا علم دیا ہے کہ کوئی اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کتنا بڑا تغیر کر دیا۔آپ سے پہلے مولوی یہی کہا کرتے