مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 302 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 302

302 معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا کوئی حصہ غائب نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔قرآن نے دعوی کیا اور چیلنج دیا ہے کہ اس میں ساری اخلاقی اور روحانی ضروریات موجود ہیں۔لیکن اگر اس کا کوئی حصہ غائب ہوا ہوتا تو ضرور تھا کہ بعض ضروری اخلاقی یا روحانی امور کے متعلق اس میں کوئی ارشاد نہ ملتا۔لیکن ایسا نہیں ہے۔اس میں ہر ضرورت روحانی کا علاج موجود ہے اور اگر یہ سمجھا جائے کہ قرآن کریم کے ایک حصہ کے غائب ہو جانے کے باوجود اس کے مطالب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تو پھر تو جن لوگوں نے اس میں کمی کی ہے وہ حق بجانب تھے کہ انہوں نے ایسے لغو حصہ کو نکال دیا جس کی موجودگی نعوذ باللہ من ذالک قرآن کریم کے حسن میں کمی کر رہی تھی۔اگر وہ موجود رہتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ اس حصہ کا کیا فائدہ ہے اور اسے قرآن کریم میں کیوں رکھا گیا ہے۔مجھے اس عقیدہ پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔میں چھوٹا سا تھا کہ ایک دن آدھی رات کے وقت کچھ شور ہوا اور لوگ جاگ پڑے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک آدمی کو بھیجا کہ جا کر دیکھو کیا بات ہے۔وہ ہنستا ہوا واپس آیا اور بتایا کہ ایک دائی بچہ جنا کر واپس آرہی تھی کہ نانک فقیر اسے مل گیا اور اس نے اس کو مارنا شروع کر دیا۔اس نے چیخنا چلانا شروع کیا اور لوگ جمع ہو گئے۔جب انہوں نے نانک سے پوچھا کہ تو اسے کیوں ماررہا ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرے سرین کاٹ کر لے آئی ہے اس لیے اسے مار رہا ہوں۔لوگوں نے اسے کہا کہ تیرے سرین تو سلامت ہیں انہیں تو کسی نے نہیں کاٹا۔تو حیران ہو کر کہنے لگا اچھا۔اور دائی کو چھوڑ کر چلا گیا۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کریم میں تغیر کے قائل ہیں۔وہ غور نہیں کرتے کہ قرآن کریم آج بھی ایک مکمل کتاب ہے اگر اس کا کوئی حصہ غائب ہو گیا ہوتا تو اس کے کمال میں نقص آ جاتا۔غرض قرآن کریم کے مکمل ہونے کا ثبوت خود قرآن کریم ہے۔اگر حضرت عثمان یا اور کوئی صحابی اس کی ایک آیت بھی نکال دیتے تو اس میں کمی واقع ہو جاتی۔لیکن تعجب ہے کہ باوجود اس بیان کے کہ اس سے دس پارے کم کر دیئے گئے اس میں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔اس صورت میں تو بڑے بڑے اہم مسائل ایسے ہونے چاہئیں تھے جن کے متعلق قرآن کریم میں کچھ ذکر نہ ہوتا۔مگر قرآن کریم میں دین اور روحانیت سے تعلق رکھنے والی سب باتیں موجود ہیں (2) دوسرا خیال مسلمانوں میں یہ پیدا ہو گیا تھا کہ قرآن کا ایک حصہ منسوخ ہے۔