مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 301
301 ہمارے ایک انگریز مخلص احمدی داؤ د سمر ز مرحوم نے ستر سال کی عمر میں بچی محبت اور عقیدہ سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا اور دس سپاروں سے اپنے دل کو منور کر چکے تھے کہ ان کو آخری بلا وا آ گیا! الغرض احمدیت نے غلط عقائد کی بیخ کنی کرتے ہوئے دنیا کو ان سچے عقائد ونظریات سے روشناس کرایا جو خدا تعالیٰ کی عظمت، اسلام کی شوکت اور رسول خداﷺ کی بلندشان کو ثابت کرنے والے تھے۔اس طرح زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے چہرہ کو سب داغوں سے پاک وصاف کر دیا اور آپ کا مقصد بتمام و کمال پورا ہوا۔آپ نے فرمایا :- ”خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفی یہ ہے۔( مجموعہ اشتہارات مطبوعہ لندن 1984ء جلد سوم صفحہ 267،اشتہار 25 مئی 1900ء) ان تین بنیادی امور کے علاوہ حضرت مسیح موعود نے مسلمانوں میں مروجہ جن غلط عقائد کی اصلاح کی اور مسلمانوں کو صراط مستقیم کی راہ دکھائی ان میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد، دجال کی حقیقت، جہاد کا صحیح اسلامی تصور، توحید حقیقی ، قرآن و حدیث کا مقام ومرتبہ وغیرہ بے شمار امور ہیں جن کا تفصیلی ذکر جماعتی لٹریچر میں موجود ہے۔قرآن کریم کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:- کلام الہی میں سے خاص طور پر قرآن کریم کے متعلق بہت سی غلطیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بھی دور کیا۔مثلاً ( 1 ) ایک غلطی بعض مسلمانوں کو یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کریم کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اس میں تبدیلی ہوگئی ہے اور بعض حصے اس کے چھپنے سے رہ گئے ہیں۔اس خیال کی بھی آپ نے تردید فرمائی اور بتایا کہ قرآن کریم مکمل کتاب ہے۔انسان کی جتنی ضرورتیں مذہب سے تعلق رکھنے والی ہیں وہ سب اس میں بیان کر دی گئی ہیں۔اگر اس کے بعض پارے یا حصے غائب ہو گئے ہوتے تو اس کی تعلیم میں ضرور کوئی کمی ہونی چاہیے تھی۔اور ترتیب مضمون خراب ہو جانی چاہیے تھی۔مگر نہ اس کی تعلیم میں کوئی نقص ہے اور نہ ترتیب میں خرابی۔جس سے