مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxiv
VII جمن اسلام کے مالی از محترم عبدالسمیع خانصاحب ایڈیٹر روز نامہ " الفضل اسلام کو دوسرے مذاہب پر ایک زبر دست امتیاز یہ حاصل ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد خدا نے پہلے مذاہب کی نگرانی اور دیکھ بھال چھوڑ دی اور وہ ایک بغیر مالی کے باغ کی طرح ہیں جس کا کوئی دلی ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہوتا اور وہ باغ کم اور جھاڑ جھنکار کا مجموعہ زیادہ لگتا ہے۔جس کے پودے بے رونق، پھل اگر ہوں تو بے ذائقہ یا تلخ، پھول بے رنگ اور بے خوشبودار اور راستے جنگل کا منظر پیش کرتے ہیں۔یہی وجہ کہ اس باغ کی پرانی عظمت کے مداح تو بہت ہیں مگر اس کے تازہ پھلوں اور رونقوں کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔محض قصوں اور کہانیوں پر گزارا ہے۔بن برسات کے یہ کھیت خشک اور ویران ہو چکے ہیں۔اس کے بالمقابل اسلام بھی ایک باغ کا منظر پیش کرتا ہے جس کے پھل خوش ذائقہ اور بکثرت ہیں۔جس کے پھول ہر قسم کی خوشبو سے معطر ہیں۔جس کے درختوں کی ڈالیاں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور جس کی جڑیں فطرت میں گہری پیوست ہیں۔نظام قدرت کے تحت اس باغ میں بھی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں جو وقتاً فوقتاً پھلوں کو خراب کرنے اور پھولوں کا رس چوسنے کی کوشش کرتی ہیں۔کیڑے مکوڑے بھی ظاہر ہوتے ہیں جو آنے والوں کی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔مگر چونکہ یہ خدا کا آخری مذہب اور کامل دین ہے اس لئے خدا نے قیامت تک اس کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے جس کا ایک طریق خدا نے خلافت کی شکل میں مقررفرمایا ہے۔خلافت کے دور اولین اور دور آخرین کے درمیان جب امت بکھر گئی اور تتر بتر ہوگئی تو خدا نے قومی خلافت کی بجائے فردی خلافت کا نظام جاری کیا جسے اصطلاح میں مجددیت کہتے ہیں۔اس ادارہ کے جوانمردوں نے اسلام کے چمن کیلئے مالی کا کام کیا۔جھوٹی روایات کی آکاس بیلیں اکھاڑ پھینکیں ، بد رسومات کے طوق چاک کر دیے اور خدا تعالیٰ کی تازہ بتازہ تائید و نصرت سے نشان پر نشان دکھاتے رہے اور ایک عالم کو اس دین کا گرویدہ بناتے رہے۔انہوں نے بیرونی حملہ