مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 202
202 تفسیر ، قرآن کو سمجھنے کے اصول و قواعد پر بڑی سلیس زبان میں بحث ہے۔یہ آپ نے فارسی زبان میں لکھا۔اس کا اردو ترجمہ دستیاب ہے۔ناسخ و منسوخ قرآن کریم میں مسئلہ نخ بہت پرانا چلا آرہا ہے اور وہ کتاب جسے شروع میں ہی خدا نے لاریب فرمایا تھا اس کے متعلق یہاں تک لکھا گیا کہ اس کی پانچ سو آیات منسوخ ہیں۔جوں جوں حضرت مسیح موعود کا زمانہ قریب آتا جا رہا تھا عقائد میں بھی تدریجا درستگی آتی جارہی تھی۔چنانچہ امام جلال الدین سیوطی کے وقت منسوخ آیات کی تعداد کم ہوکر ہیں تک آ پہنچی اور حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنے رسالہ الفوز الکبیر میں صرف پانچ آیات کو منسوخ قرار دیا اور باقی سب کو حل کر دیا۔یہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب قرآن اپنی اصلی حالت میں لوٹ آئے گا۔یعنی اس کی غلط تفاسیر اور اس قسم کے خود تراشیدہ مسائل سے اسے پاک کر دیا جائے گا۔اور پانچ آیات جو بچ گئیں تو ان میں یہ اشارہ بھی تھا کہ آئندہ کسی ایسے وجود کی ضرورت ہوگی جو تجدید سے بڑے منصب پر فائز ہو۔سنت و حدیث کی ترویج خدا نے انہیں اس بات کی توفیق دی کہ کتاب وسنت و آثار صحابہ سے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کریں نیز وہ علم دیں جو آنحضرت ﷺ سے منقول ہے اور جو چیزیں دین میں باہر سے داخل ہوگئی ہیں ان میں تمیز کر کے دکھا ئیں اور مختلف فرقوں کی طرف سے جو بدعتیں دین میں پیدا ہوگئی ہیں ان کا تدارک کریں۔علم حدیث سے آپ کو کتنا عشق تھا اس کا اندازہ آپ کے اس قول سے ہوتا ہے۔فرمایا:- هر چه خوانده بودم فراموش کردم الاعلم دیں (یعنی حدیث ) - 21 کہ ہم نے تمام سیکھے ہوئے علوم میں سے حدیث کے سوا سب کو فراموش کر دیا۔علامہ رشید رضا ایڈیٹر رسالہ المنار مصر لکھتے ہیں :- ولولا عناية اخواننا علماء الهند بعلوم الحديث في هذا العصر لقضى