مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 190
190 کر سکے۔۴۔بروز کے مسئلہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے ظلی نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔یہ نئی اصطلاح بنالی ہے اور کفر ہے۔لیکن حضرت مجد دالف ثانی کو ماننے والے انہیں کیا کہتے ہیں ملاحظہ ہو۔لہذا ضروری ہوا کہ حسب عادت ربانی اور منتقصائے صنعت رحمانی کوئی شخص ایسا پیدا ہوتا جو ظلمی طور پر رسول کے کمالات کا نمونہ مخلوقات میں دکھا تا اور جو قائم مقام اولوالعزم ہو کر تجدید دین متین کرتا۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے وہ کمالات حضرت امام ربانی شیخ احمد سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ کو عطا فرما کر مجددالف ثانی کیا ہے پس آپ کی تحریک احیائے دین دوگانہ تھی۔ایک طرف سیاسی بے راہ روی تھی اور حکومت خلاف شریعت سرگرمیوں میں مصروف تھی اور دوسری طرف اخلاق کریمانہ معدوم ہورہے تھے۔ہندومت کی آمیزش کے بداثرات آپ کی مساعی سے رُکے۔شیعوں کا غلبہ جو بدامنی پیدا کر رہا تھا آپ کی تعلیمات سے ختم ہوا۔رافضی آپ کے رسالہ رڈ روافض کے سامنے دم سادھ گئے۔آپ کے تین جلدوں پر مشتمل مکتوبات علم و معرفت کا خزانہ ہیں جن سے الحاد و زندقہ ، بدعت وضلالت کا قلع قمع ہوتا ہے۔ارشادات حضرت مسیح موعود درباره حضرت مجددالف ثانی سرہندی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- اصل میں ان کی اور ہماری نزاع لفظی ہے۔مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں۔مجدد صاحب ( سرہندی) اس کے قائل ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں جسے اخبار البدر میں یوں درج ہے:۔حضرت مجد دسر ہندی بھی ایسے مکالمہ کے قائل ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرتا ہے تو اسے عربی میں نبوت کے سوا کیا کہیں گے “ سے نبوت کی حقیقت ایک شخص سرحدی آیا اور بہت شوخی سے کلام کرنے لگا۔فرمایا:-