مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 177 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 177

177 ولادت مختصر حالات زندگی جمعۃ المبارک 14 شوال 971ھ کی شب مسعود تھی کہ حضرت شیخ عبدالاحد کے ہاں وہ بچہ تولد ہوا جس کی بشارت پہلے سے دی جا چکی تھی۔شیخ اپنے کمرے میں محو استراحت تھے۔نماز تہجد کے قریب خواب دیکھا کہ کائنات ظلمتوں کی لپیٹ میں آگئی۔خنزیر، بندر اور ریچھ مخلوق خدا کو ہلاک کر رہے تھے۔معاً آپ کے سینہ سے نور کا ظہور ہوا اس میں ایک تخت ہویدا ہوا جس پر ایک شخص جس کے چہرے پر نور وجلال متمکن تھا، اس کے سامنے ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کو لا کر بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جار ہا تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بآواز بلند کہہ رہا ہو قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔آپ اُٹھ کر بارگاہ حمدیت میں سجدہ ریز ہو گئے۔صبح اُٹھ کر شاہ کمال کتھیلی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خواب بیان کیا۔انہوں نے بشارت دی کہ ایک بچہ پیدا ہوگا جس کے دم قدم سے الحاد و بدعت کی سیاہیاں اور زندیقیت کی ظلمتیں کافور ہوں گی۔کے اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا میٹر کا بڑی عمرکا ہوگا اور عالم عامل اور عارف کامل ہوگا اور ہم جیسے کئی اس سے پیدا ہوں گئے۔سے آپ کے والد ماجد نے آپ کا نام شیخ احمد فاروقی رکھا۔آپ کا شجرہ نسب ستائیسویں پشت میں فاروق اعظم سے جاملتا ہے۔آپ نے سات برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا اور دینی تعلیم کی خاطر سیالکوٹ آگئے اور مولانا کمال کشمیری سے اکتساب فیض کیا۔1008ھ میں حج کے ارادے سے نکلے لیکن راستے میں حضرت خواجہ باقی باللہ سے ملنے کی خواہش پیدا ہوگئی۔ادھر خواجہ صاحب کو بھی ایسا مبشر خواب دکھایا گیا جس میں آپ کے دامنِ برکت سے ایک بزرگ کے ظہور کی خبر تھی۔چنانچہ ان دونوں بزرگوں کی ملاقات دہلی میں ہوگئی اور شیخ خواجہ صاحب کی زیر تربیت نقشبندی فرقے کے مایہ ناز پیر طریقت ہو گئے۔یہاں سے دوبارہ سر ہند آگئے اور فیوض برکات کے انتشار کا کام شروع کر دیا۔