مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 172 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 172

172 دینا چاہیے کہ کسی نے اسے موضوع کہا ہے۔اس کا فیصلہ اس سلسلے کی مستند کتب سے رجوع کے بعد کیا جائے۔اس کی مثال دیتے ہوئے شیخ نے لکھا ہے کہ امام ابن جوزی نے اپنی کتاب الموضوعات میں بعض ان احادیث کو بھی موضوع قرار دیا ہے جو دراصل حسن کا درجہ رکھتی ہیں۔علاوہ ازیں بعض ضعیف احادیث کو بھی انہوں نے موضوع ٹھہرایا ہے۔اس کے بعد شیخ نے ان احادیث پر عالمانہ و ناقدانہ بحث کی ہے جنہیں کسی نہ کسی عالم نے موضوع سے تعبیر کیا ہے۔اس مسئلہ سے متعلق یہ ایک مفید کتاب ہے۔یہ کتاب مصر میں چھپ چکی ہے اور مشہور اہلحدیث عالم مولانا عبدالجلیل سامر دوی نے بڑی محنت سے اس کی تصحیح کی ہے۔۳۔علاوہ ازیں المغنی فی ضبط اسماء الرجال۔قانون الموضوعات في ذكر الضعفاء الوضاعین: یہ کتاب مصر میں طبع ہو گئی ہے۔اس کے مقدمہ میں مرقوم ہے کہ مصنف علام نے اس کو تذکرۃ الموضوعات کے بعد تصنیف کیا۔اس کتاب میں مصنف نے ان راویوں کو حروف تہجی کے اعتبار سے جمع کر دیا ہے جو موضوع حدیثیں وضع کرتے یا بیان کرتے تھے۔آخری دو فصلوں میں ان کی کنیتیں اور نسب بیان کیے گئے ہیں۔کتاب کے بالکل آخر میں مولانا عبدالجلیل سامر دوی مرحوم نے ترجمة المؤلف کے عنوان سے شیخ محمد بن طاہر کے حالات و سوانح تحریر کیسے ہیں۔فاضل مصنف نے وضاع راویوں کے نام اور اوصاف با قاعدہ حوالوں کے ساتھ درج کیے ہیں اور ان کا ساقط الاعتبار یا غیر مستند ہونا متقدمین کی کتابوں سے ثابت کیا ہے۔اس کا انداز اس قسم کا ہے مثلاً : غالب بن عبید اللہ الجزری لیس بشی غریب بن عبدالواحد القرشی مجهول غسان بن ابان الحنفی میروی عجائب غیاث بن ابراہیم کذاب خلیل بن مجد وضاع الفرح بن فضالة ضعیف