مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 155
155 پڑھاتے تھے اور آپ کے تلامذہ بڑے بڑے عالم بنے۔آپ کے اساتذہ نے آپ کی ذہانت، معرفت، امانت ، حفظ اور ذوق سلیم کی خوب تعریف کی ہے۔عراقی نے آپ کے بارے میں کہا :- انه اعـلـم اصحـابـه بالحدیث“ سے۔آپ اپنے ہمعصروں میں سب سے زیادہ عالم حدیث تھے۔آپ کے شاگردوں نے آپ کی کئی کتب کے تراجم مختلف زبانوں میں کیے ہیں۔کتاب الجواہر وادر رفی ترجمتہ الحافظ ابن حجر ہے جو علامہ السخاوی نے کیا ہے۔وفات آپ 28 ذی الحجہ 852ھ کو قاہرہ میں فوت ہوئے اور مصر کے بادشاہ نے سب سے پہلے آپ کے جنازہ کو کندھا دیا۔آپ کی وفات پر شہاب منصوری نے یوں مرثیہ لکھا:۔قد بكت السحب على قاضي القضاة بالمطر وانهدم الركن الذى كان مشيدًا من حجر آسمان قاضی القضاۃ کی وفات پر بارش کے ذریعہ رو پڑا اور وہ ستون جو ( حجر ) پتھروں سے مضبوط کیا گیا تھا آپ کی وفات کے ساتھ گر گیا۔آپ کا نام ابن حجر تھا۔شخصیت و کردار آپ شیخ الاسلام، سنت کے علمبردار اور خادم قرآن وحدیث تھے۔حافظ تقی الدین آپ کے بارے میں لکھتے ہیں :- امام علامه حافظ متين الديانة، حسن الاخلاق، لطيف المحاضرة حسن التعبير عديم النظير لم تر العيون مثله ولا رأى هو مثل نفسه“ ـ ه و (ترجمہ) آپ امام، علامہ، حافظ، محقق، مضبوط دین والے، اعلیٰ اخلاق والے، عمدہ گفتگو والے، بہترین استدلال کرنے والے اور بے نظیر تھے۔نہ دوسری آنکھوں نے ان کی