مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 150 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 150

150 تجدید بذریعہ تدریس وافتاء آپ نے 17 برس کی عمر میں افتاء و تصنیف اور 21 برس کی عمر میں سلسلہ تدریس شروع کیا۔ابن قدامہ کہتے ہیں کہ آپ کرسی پر بیٹھ کر قرآن حکیم کا درس حافظہ سے دیا کرتے تھے۔آواز بلند اور رسیلی تھی اور آپ بہتی ہوئی ندی کی طرح چلتے تھے۔ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آپ کی تقاریر کو سن کر بڑے بڑے گناہگار تائب ہوئے۔ابن تیمیہ خود فرماتے ہیں:- بعض اوقات مجھے ایک ایک آیت کی سوسو تفاسیر سوجھتی تھیں۔پھر میں اللہ سے دعا کرتا تھایا معلم ابراهیم فهمنی شیخ صالح تاج الدین محمد معروف بابن الدردی کہتے ہیں :- میں آپ کی مجلس درس میں شامل ہوتا رہا۔آپ سیلاب کی طرح چلتے اور دریا کی طرح بہتے۔حاضرین آنکھیں بند کر کے سہمے بیٹھے رہتے۔آپ رسول اللہ ﷺ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے۔بعض علماء احادیث میں اقوال ائمہ کے مطابق معنے ڈالتے ہیں لیکن آپ قول پیغمبر پر تمام ائمہ کے اقوال کو قربان کر دیتے۔درس کے بعد آپ اپنی آنکھیں کھولتے اور سامعین کے ساتھ نہایت بشاشت سے گفتگو فرماتے۔بسا اوقات آپ کے اطوار سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ دورانِ درس میں آپ کہیں غائب تھے اور اختتام پر واپس آئے ہیں۔۳۳ آپ کے ایک شاگردا بو حفص آپ کے درس و تدریس کی تعریف میں کہتے ہیں:- (ترجمہ) ابن تیمیہ جب درس شروع کرتے تو اللہ تعالیٰ ان پر علم کے اسرار، باریکیاں، لطائف، دقیق مسائل فنون ، علماء کے اقوال ونقول اور کلام عرب کے شواہد و امثال کا دہانہ کھول دیتا اور ایسا معلوم ہونے لگتا کہ ایک سیلاب یا ایک دریا امڈ رہا ہے۔۳۴ اس کے علاوہ اس صدی کے مجددین کے اسماء یہ ہیں۔ابن دقیق العید۔شاہ شرف الدین مخدوم بھائی سندھی عبد اللہ بن اسعد یافعی شافعی۔محمد بن عبد الله الشبلی حنفی و مشقی