مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 125
125 ہے۔شدز دنیا چو در بهشت مریں وہ معین الدین جو مرشد و متقی تھا دنیا سے مرشد و متقی معین الدین بہشت میں چلا گیا۔ان کی رحلت کی تاریخ گفت تاریخ رحلتش سرمد سرمد بیان کرتا ہے۔جو محرم دل تھے اور ولی محرم دل ولی معین الدین اللہ تھے۔آپ کا نام معین الدین تھا۔ہم افسانه یاران کهن خواندم و رفتیم پرانے دوستوں کا فسانہ پڑھا اور چلے گئے۔در باب که لعل و گہر افشاندم و رفتیم سے اس بارہ میں لعل و گوہر بکھیرے اور چلے گئے۔با خدا انسان - روحانی مقام ا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بزرگان امت کے باخدا لوگوں میں آپ کا ذکر بھی فرمایا -۲- اسی طرح حضرت مصلح موعودہؓ آپ کے متعلق فرماتے ہیں :- " جس طرح فقہ کے چار امام ہیں۔اسی طرح روحانی علوم کے بھی چار امام ہیں اور ان میں سے ایک حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا نام نامی ہے۔ہے حالات زمانہ جب آپ نے ہوش سنبھالا تو خراسان گہوراہ رنج والم تھا۔تاتاریوں نے مسلم دنیا میں کشت و خون پھیلایا ہوا تھا۔اہل اللہ مظالم کا شکار تھے۔اسلام کی بے حرمتی ہو رہی تھی۔549ھ میں جب آپ کی عمر تیرہ برس کی تھی کہ سلطان سحر کو تاتاریوں کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وسط ایشیا کے لٹیرے خراسان، نیشا پور، طوس، مشہد مقدس میں داخل ہو گئے۔جہاں بے گناہ بندگان خدا کے لہووؤں کی ندیاں بہادی گئیں، کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے گئے ،عورتوں کی آبروریزی کی گئی، مکانات منہدم کر دیے گئے، مسلمانوں کو غلام بنالیا گیا، مساجد نذر آتش کردی گئیں، یگانہ روز علماء مثلا محمد بن یحیی، عبدالرحمن بن عبد الصمد نیشاپوری، حسن بن عبدالمجید رازی وغیرہ کو شہید کر دیا گیا۔یہ تو بیرونی آفات تھیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اندرونی حالت بھی انتہائی نا گفتہ بہ تھی اور دراصل تاتاریوں کے یہ حملے بھی حضور ﷺ کی پیشگوئی کو پورا کر رہے تھے کہ یا ایها الـكـفـار أقتل الفجار اس وقت