مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 100
100 اور یہاں یہ حال تھا کہ ایک طرف یہ نام نہاد تصوف عروج پر تھی تو دوسری طرف تصوف کی شدید مخالفت میں کتب تصانیف ہورہی تھیں۔گویا ایک حصہ افراط کا شکار تھا اور دوسرے حصہ پر تفریط غالب تھی اور اسلام جومیانہ رو ہے اس کا نشان نہ ملتا تھا۔ایسے پر آشوب حالات میں مصلحین اُمت نے عظیم تجدیدی کام کیا اور پانچویں صدی کے آخر اور چھٹی صدی کے نصف اول میں دو جرنیل بالخصوص ابھر کر سامنے آئے۔یہ امام غزالی اور سید عبد القادر جیلانی تھے۔امام غزالی کی فکری تحریک سے شکوک والحاد کے فتنے کا سد باب ہو گیا لیکن جمہور امت میں بے یقینی اور بے عملی کے روگ کا مداوا ابھی باقی تھا۔یہ کام عظیم صوفی مبلغ شیخ عبد القادر جیلانی نے انجام دیا۔جنہوں نے اپنے علم روحانی ، تصنیف و تالیف اور خطابت سے مردہ مسلمانوں میں حیات نو پیدا کر دی۔آپ نے بے عمل صوفیا کو بھی متنبہ کیا۔عوام و خواص کو بھی پکارا اور اس کے علاوہ غیر مسلموں میں بھی تبلیغ و دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیا۔آئندہ صفحات میں انشاء اللہ آپ کے تجدیدی وتبلیغی کام کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔لیکن ضروری ہے کہ اس سے قبل آپ کے عظیم روحانی مقام اور عظمت کردار کا ذکر بھی مختصر ا کر دیا جائے۔عظیم روحانی مقام آپ کے روحانی مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجد داعظم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور ملفوظات میں متعدد بار آپ کا ذکر ملتا ہے۔آپ کی کتب کے حوالے حضور نے درج کیے ہیں۔حضور پر نور کے الہامات، رویا و کشوف میں بھی آپ کا ذکر ہے۔آپ نے ان کتب کا مطالعہ بھی فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- ا۔سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب فتوح الغیب بڑی عمدہ کتاب ہے۔میں نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا ہے۔بدعات سے پاک ہے۔ہے ۲۔حضرت اقدس نے آپ کو مجدد تسلیم کیا۔اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔فانظر ايها العزيز كان الله معك ان هذ القائل بتأثير النجوم عالم ربانى من علماء الهند و كان هوا مجدد زمانه و فضائله متبينة في هذه الديار و هو امام فى عين الكبار ولا يختلف في علو شانه احد من