مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 96
96 طرح پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور ہدایت کرتا ہے۔لیکن جو مخلوق سے ڈرتا اور مخلوق سے امید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو مخلوق کیلئے درست کرتا ہے۔خدا والوں کو مخلوق کی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔اس لیے وہ ان بلاؤں میں نہیں پھنستے اور دراصل وہ ان کو کیا کرے اللہ تعالیٰ خود اس کے ساتھ ہوتا ہے اور وہی اس کی تائید اور نصرت فرماتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ خدا اپنی مخلوق کو خود اس کے ساتھ کر دے گا۔یہی بستر ہے کہ انبیاء علیہم السلام خلوت کو پسند کرتے ہیں اور میں یقیناً اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتے کہ باہر نکلیں، لیکن اللہ تعالیٰ ان کو مجبور کرتا ہے اور پکڑ کر باہر نکالتا ہے۔وفات 14 جمادی الثانی 505 ء میں بمقام طاہر ان انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔امام صاحب کی وفات پر عالم اسلام کو بہت صدمہ پہنچا اور اکثر شعراء نے مریے لکھے۔ہے امام صاحب کو عقائد، اعمال، اخلاق، تعلیم وغیرہ شعبوں میں جس قدر کام کرنے کا موقع ملا وہ بلا شبہ ایک مجدد کا کام ہے۔آپ نے کئی فقہی نزاعیں دور کر کے صحیح اسلامی نظریے پیش کیے۔ھے آپ کے علاوہ پانچویں صدی کے مجد وحسب ذیل مانے جاتے ہیں۔احمد بن حنبل اور علامہ عینی اور کرمانی کے نزدیک حضرت راعونی حنفی، خلیفہ مستظهر بالدین مقتدی باللہ عباسی ( قریشی ) عبد اللہ بن محمد انصاری، ابو اسماعیل ہروی ، ابوطاہر سلفی محمد بن احمد ابو بکر شمس الدین سرخسی فقیہہ حنفی۔