مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 91
91 حالات زندگی (1111-1059ء) مشہور مسلمان مفکر، محمد نام ، لقب مجد دالاسلام عرفیت غزالی 445ھ کو خراسان کے علاقہ طاہران میں پیدا ہوئے۔ان کے باپ محمد روئی فروش تھے اس مناسبت سے ان کا خاندان غزالی کہلایا کیونکہ روئی کاتنے والے کو عربی میں غزالی کہتے ہیں۔امام صاحب کے والد تعلیم سے محروم تھے جس کا انہیں بہت قلق تھا۔مرتے وقت وہ اپنے دونوں بیٹوں کو ایک بزرگ کے سپرد کر گئے کہ ان دونوں بھائیوں کو تعلیم دلانا۔چنانچہ ابتدائی تعلیم طاہران ہی میں ہوئی۔فقہ کی کتابیں احمد بن محمد وافکانی سے پڑھیں۔پھر جرجان امام ابونصر اسماعیلی کی خدمت میں پہنچے اور زانوئے تلمذ طے کیا۔علمی نوٹس جنہیں تعلیقات کہا جاتا ہے آپ نے بھی دیگر طلباء کی طرح تیار کر لیے۔وطن واپسی پر راستہ میں ڈاکہ پڑا اور سب کچھ لٹ گیا۔امام صاحب کو اور تو کسی چیز کا غم نہ تھا البتہ تعلیقات کے ضائع ہو جانے پر بہت صدمہ ہوا۔جب آپ ڈاکوؤں کے سردار کے پاس نوٹس مانگنے گئے تو اس نے طنزاً کہا ایسے علم کا کیا فائدہ جو کاغذات کا رہین منت ہو۔اس طنز نے امام صاحب پر بڑا اثر کیا اور وطن واپس پہنچ کر ان تمام کا غذات کو حفظ کر لیا۔مزید تعلیم کیلئے امام صاحب اس وقت کے سب سے بڑے عالم علامہ ابواسحق شیرازی کے پاس نیشا پور پہنچے اور ان کی وفات تک ان سے پڑھتے رہے۔اسی دوران امام صاحب نے کئی تصانیف لکھیں۔ان کے انتقال کے بعد نیشا پور سے اس شان سے نکلے کہ تمام مسلمان ممالک میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔اس وقت ان کی عمر 28 برس تھی۔نیشا پور سے آپ نظام الملک کے دربار میں پہنچے علمی شہرت کی بنا پر نظام نے بڑی تعظیم کی اور علمی مناظروں کا اہتمام کیا۔مناظروں میں ہمیشہ امام صاحب ہی غالب رہتے۔اس کامیابی پر آپ کی شہرت بہت چمکی اور نظام نے انہیں مدرسہ نظامیہ کا افسر اعلیٰ مقرر کر دیا۔اس وقت آپ کی عمر 34 برس تھی۔اتنی عمر میں یہ منصب امام غزالی سے پہلے کسی کو بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔مدرسہ نظامیہ کی مسند تدریس جب آپ نے سنبھالی تو تھوڑے ہی عرصہ میں ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھ گئی حتی کہ سلطنت کے اہم امور بھی ان کی شرکت کے بغیر انجام نہیں پاسکتے تھے۔487ھ میں خلیفہ مقتدر باللہ کی وفات کے بعد مستنصر خلیفہ بنا تو اس کی بیعت میں دیگر اراکین سلطنت کے ساتھ امام غزالی بھی شریک تھے۔