مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 72 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 72

72 پھر یہ کتب سارے عالم اسلام میں مشتہر ہوگئیں۔ربیع کی روایت ہے کہ مصر کے چار سالوں میں آپ نے ڈیڑھ ہزار ورق املا کرائے۔تصنیفات میں کتاب الام ، کتاب السنن اور بہت سی کتب ان کے علاوہ ہیں اور یہ سارا کام چار برس میں انجام پایا۔ملاعلی قاری نے آپ کی تصنیفات کی تعداد ایک سو تیرہ لکھی ہے۔امام ذولاق کا قول ہے کہ امام صاحب نے اصول دین میں چودہ جلدیں اور فروع میں سو سے زائد جلد میں لکھی ہیں۔کتاب الام آپ کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ہر زمانے کے علماء اس سے حوالے اخذ کرتے رہے ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس کتاب کے عمدہ ہونے کے معترف ہیں۔وہ کہتے ہیں اس کتاب نے مجھے مرتبہ اجتہاد تک پہنچایا ہے۔شیخ ابن حجر نے آپ کی مشہور کتب کے نام بتائے ہیں جن میں چند حسب ذیل ہیں۔رسالہ قدیمہ۔رسالہ جدیدہ۔اختلاف الحدیث اختلاف السنن اجماع الامام ابطال استحسان۔احکام القرآن۔بیان الفرض_صفتہ الامر والنہی۔اختلاف مالک والشافعی اختلاف الشافعي ومحمد بن الحسن۔کتاب علی و عبداللہ فضائل قریش۔کتاب المبسوط سیر الاوزاعی۔سیر الواقدی ( مؤخر الذکر دو کتب کتاب الام کا حصہ ہیں )۔آپ کے علاوہ مندرجہ ذیل مجد دین دوسری صدی میں مانے جاتے ہیں۔یحیی بن معین بن عون عطفا نی۔اشہب بن عبد العزیز بن داؤد قیس۔ابوعمر و مالکی مصری۔خلیفہ مامون رشید بن ہارون۔قاضی حسن بن زیاد حنفی۔جنید بن محمد بغدادی صوفی۔سہل بن ابی سہل بن رمحلہ شافعی۔بقول امام شعرانی حارث بن اسعد طالبی ابوعبداللہ صوفی بغدادی۔اور بقول علامہ عینی احمد بن خالد الخلال۔ابو جعفر حنبلی بغدادی۔