مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 65 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 65

65 رسول کی مخالفت مومنوں کا شیوہ نہیں۔فليحذر الذين يخالفون عن امره ان تصيبهم فتنة أو يصيبهم عذاب الیم۔سورہ نور 65۔امام شافعی خبر احاد اور مرسل ( جن میں شک وشبہ کی گنجاش ہوتی ہے ) بڑی دقیق شرائط کے ساتھ لیتے ہیں۔سے سیہ وہ اصول ہیں جن کی صحت میں کسی منصف مزاج کو کلام نہیں۔تمام ائمہ اہلحدیث نے امام صاحب کے فن کو حدیث میں اپنا مقتدا قرار دیا۔امام صاحب کے ان اصولوں کی مضبوطی نے اہل رائے کے دلوں پر بھی یہاں تک اثر ڈالا کہ اکثر ذی علم اہل رائے اپنا پرا نامذہب چھوڑ کر ان کی شاگردی میں داخل ہوئے اور حکام وقت پر اتنا اثر پڑا کہ وہ امام صاحب کے ساتھ بے انتہاء تعظیم و تکریم سے پیش آنے لگے۔اب وہ علی الاعلان اہل رائے کے مذہب کی قباحتیں بیان کرنے لگے۔امام صاحب کی وجہ سے اہلحدیث کے حو صلے بھی بڑھ گئے۔علم حدیث کو روز بروز ترقی ہونے لگی۔غرض اس طریق پر آپ نے اہل الرائے کے فتنے کو دور کیا اور حدیثوں کی تنقید کی بنیاد ڈالی۔۲۸ سلسلة الذهب روایت حدیث میں صحت کے لحاظ سے امام شافعی کا اتنا مقام ہے۔مندرجہ ذیل سند کو محدثین نے سلسلۃ الذھب (سونے کی زنجیر ) قرار دیا ہے۔شافعی عن مالک عن نافع عن ابن عمر۔19 فقہ اور امام شافعی امام شافعی سے پیشتر فقہ کی کیفیت یہ تھی کہ نہ اس وقت اس کے اصول وقواعد ایجاد ہوئے تھے اور نہ غلط و صحیح مسائل کو معلوم کرنے کا کوئی حقیقی معیار تھا۔نہ احادیث مختلفہ میں تطبیق دینے اور ان کے تعارض کو دور کرنے کا کوئی قانون تھا۔اس زمانے کے فقہاء عموماً مرسل ومنقطع احادیث سے استنباط مسائل کیا کرتے تھے اور تعارض کی صورت میں اپنے اطمینان قلب اور فراست طبع سے کسی ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دیتے تھے اور اس پر عمل کرتے اور دوسری کو متروک خیال کرتے۔اکثر ضعیف احادیث کے مقابلے میں صحیح احادیث چھوڑ دیتے رائے مخالف شرع کو قیاس صحیح شرع سے خلط کرتے اور اس کا نام استحسان رکھتے۔