مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 29
29 ان میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو صاحب وحی اور صاحب الہام تھے اور جنہوں نے اپنے ملک کی رہنمائی کا فرض سرانجام دیا۔پس وہ بھی اپنی اپنی جگہ مجد دتھے اور یہ بھی اپنی جگہ مجدد تھے ۵۴ الائمة من القريش سے مراد یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ امام قریشی ہوں گے اور سلسلہ مجددین اور آئمہ ایک ہی مفہوم میں ہے تو کیا سارے مسجد دین قریشی ہوں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ نے آئمہ کے بارے میں ایک سے زائد پیشگوئیاں فرمائی ہیں۔مثلاً مشکوۃ میں ایک حدیث یوں ہے: صلى الله عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله عليهم يقول لا يزال الاسلام عزيزا الى اثنى خليفة، خليفة كلهم من قريش - ده۔حضرت جابر بن سمرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا اسلام ہمیشہ بارہ خلفاء کے ذریعہ غالب رہے گا۔جن میں سے ہر ایک قریشی ہوگا۔دوسری طرف یہ بات بھی مسلم ہے کہ قیامت تک بارہ نہیں بلکہ ہزار خلفاء و اولیاء آئیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو کئی جگہ بیان کیا ہے۔اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ بارہ مجد ڈین قریشی ہوں گے اور باقی ان کے علاوہ دوسرے بھی ہو سکتے ہیں۔دوسراصل یہ ہے کہ قریش سے کیا مراد ہے۔کیا صرف خاندان نبوی کے افراد یا حضرت نبی کریم ﷺ کے تمام صحیح متبعین قریش میں شامل ہیں۔مؤخر الذکر بات قبول کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔کیونکہ ہر مجد د سیح متبعین ہونے کی حیثیت سے قریشی ہوا ہے۔چنانچہ یہی حل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پیش فرمایا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا کوکشفی طور پر دکھایا گیا تھا کہ خلیفے قریش سے ہوں گے خواہ حقیقی طور پر یا بروزی طور پر جیسے دجال کا بروز بنایا اسی طرح پر سلاطین مغلیہ وغیرہ۔بروزی طور پر قریش ہی ہیں۔جب تک کوئی بروز کے مسئلہ کو نہیں سمجھتا اس پیشگوئی کی۔حقیقت کو سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔جب اصل قریش میں استعداد نہ رہی اور اس قوم میں وہ استعداد پائی گئی تو خدا نے وہ عہدہ اس کے حوالے کیا۔الالی امور ہمیشہ ہوتے ہیں اور ہوں گے یہ معنے ہیں الائمة من القريش“ کے“۔۵۶