مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 3 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 3

زندہ کرنے اور ان دونوں کے تقاضوں کے مطابق حکم دینا ہیں اور جان لے کہ مسجد دخن غالب کے طور پر اپنے حالات وقرائن اور علم کی نفع رسانی سے پہچانا جاتا ہے۔نواب صدیق حسن خانصاحب لکھتے ہیں :۔یعنی میفر سد خدائے تعالیٰ برائے این امت برسر ہر صد سال کسیکہ تازہ میکند برائے امت دین اور مراد بتجدید دین احیاء عمل بکتاب وسنت وامر بمقتضائے ایں ہر دو امت کہ مندرس شده - ۱۰ یعنی خدا فرماتا ہے کہ اس امت کے واسطے ہر صدی کے سر پر کسی شخص کو دین تازہ کرنے کیلئے بھیجے گا۔تجدید دین سے مراد کتاب اللہ اور سنت کے عمل کا احیاء اور ان دونوں کے تقاضے کے مطابق امر کرنا جو کہ مٹ چکے تھے۔سید ابوالاعلیٰ مودودی کہتے ہیں :- مجدد نبی نہیں ہوتا مگر اپنے مزاج میں مزاج نبوت سے بہت قریب ہوتا ہے۔نہایت صاف دماغ، حقیقت رس نظر، ہر قسم کی کبھی سے پاک۔۔۔اپنے ماحول اور صدیوں کے جے ہوئے امور ، رچے ہوئے تعصبات سے آزاد ہو کر سوچنے کی قوت، زمانہ کی بگڑی ہوئی رفتار سے لڑنے کی طاقت و جرأت، قیادت و رہنمائی کی پیدائشی صلاحیت، اجتہاد وتعمیر نو کی غیر معمولی اہلیت اور ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ اسلام میں شرح صدر۔۔۔یہ وہ خصوصیات ہیں جن کے بغیر کوئی شخص مجدد نہیں ہوسکتا اور یہی وہ چیزیں ہیں جو ان سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر نبی میں ہوتی ہیں۔لاء تجدید دین سے مراد حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:- تجدید کے یہ معنے نہیں کہ کم یا زیادہ کیا جائے اس کا نام تو سخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنی ہیں کہ جو عقائد حقہ میں فتور آگیا ہے اور طرح طرح کے زوائد ان کے ساتھ لگ گئے ہیں یا جو اعمال صالحہ کے ادا کرنے میں ستی وقوع میں آگئی ہے یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کی