مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 347 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 347

347 ظاہر ہوتے تھے اور لوگوں کو خدا سے ملا دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کے آثار کا مشاہدہ کر دیتا ہے۔چنانچہ آپ کے اس اعلان کا یہ نتیجہ ہوا کہ غیر مذاہب کے پیروؤں کو آپ کا اور آپ کی جماعت کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا اور وہ ہر میدان میں شکست کھا کر بھاگنے لگے۔(ب) دوسرا اصل مذہبی مباحثات کے متعلق آپ نے یہ پیش کیا کہ دعویٰ اور دلیل دونوں الہامی کتاب میں موجود ہیں۔آپ نے مذہبی دنیا کی توجہ اس طرف پھیری کہ اس زمانہ میں یہ ایک عجیب رواج ہو رہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر کے اس پر بحث کرنے لگ جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ اس کی فتح اس کے مذہب کی فتح ہوتی ہے اور نہ اس کی شکست اس کے مذہب کی شکست ہوتی ہے اور اس طرح لوگ فضول وقت مذہبی بحثوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں، فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔پس چاہیے کہ مذہبی بحثوں کے وقت اس امر کا التزام رکھا جائے کہ جس دعوئی کو پیش کیا جائے اور اس کے متعلق پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ وہ اس مذہب کی آسمانی کتاب میں موجود ہے اور پھر دلیل بھی اسی کتاب میں سے دی جائے۔کیونکہ خدا کا کلام بے دلیل نہیں ہوسکتا۔ہاں مزید وضاحت کیلئے تائیدی دلائل دیئے جا سکتے ہیں۔آپ کے اس اصل نے مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا اور وہ کندہ ناتراش واعظ جو یو نہی اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور وہ علوم جدیدہ کے فریفتہ جو اپنی قوم کو اپنا ہم خیال بنانے کیلئے جدید علوم کو اپنا مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے عادی تھے ، دونوں سخت گھبرا گئے۔آریہ جو روح و مادہ کے انادی ہونے کے متعلق خاص فخر کیا کرتا تھا اس سوال پر آکر بالکل ساکت ہوگیا۔کیونکہ وید میں دلیل تو الگ رہی اس مسئلہ کا بھی کہیں ذکر نہیں۔آج تک آریہ سماج کے علماء مشغول ہیں مگر وید کوئی شرقی نہیں نکال سکے جس سے ان کا یہ مطلب حل ہو۔یہی حال دوسرے مذاہب کا ہوا۔وہ اس اصل پر اپنے مذاہب کو سچا ثابت نہ کر سکے۔لیکن اسلام کا ہر ایک دعویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے نکال کر دکھایا اور ہر دعوی کے دلائل بھی اس میں سے نکال کر بتا دیے۔اس حربہ کو آج تک احمدی جماعت کے مبلغ کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں اور ہر میدان سے کامیاب آتے ہیں۔(ج) تیسرا اصل آپ نے یہ پیش کیا کہ ہر مذہب جو عالمگیر ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اس کیلئے صرف یہ ضروری نہیں کہ وہ یہ ثابت کر دے کہ اس کے اندر اچھی تعلیم ہے بلکہ عالمگیر مذہب کیلئے