مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 309 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 309

309 ہے اور صاف طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ قرآن کریم میں جو کچھ بیان ہوا ہے ایمان و عرفان کی ترقی کیلئے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا ایک مشرکہ عورت تھی اور سورج پرست تھی۔حضرت سلیمان اسے سبق دینا چاہتے تھے اور شرک چھڑانا چاہتے تھے۔پس آپ نے لفظوں میں دلیل دینے کے ساتھ یہ طریق بھی پسند کیا کہ عملاً اس کے عقیدہ کی غلطی اس پر ظاہر کریں اور اس کی ملاقات کیلئے ایک ایسا قلعہ کو تجویز کیا جس میں شیشہ کا فرش تھا اور نیچے پانی بہتا تھا۔جب ملکہ اس فرش پر چلنے لگی تو اسے پانی کی ایک جھلک نظر آئی۔جسے دیکھ کر اس نے اپنا لباس اونچا کرلیا۔یا یہ کہ وہ گھبرا گئی ( کشف ساق کے دونوں ہی معنی ہیں)۔اس پر حضرت سلیمان نے اسے تسلی دی اور کہا کہ جسے تم پانی سمجھتی ہو یہ تو اصل میں شیشہ کا فرش ہے جس کے نیچے پانی ہے۔چونکہ پہلے دلائل سے شرک کی غلطی اس پر ثابت کر چکے تھے اور اس نے فوراً سمجھ لیا کہ انہوں نے ایک عملی مثال دے کر مجھ پر شرک کی حقیقت کھول دی ہے اور وہ اس طرح کہ جس طرح پانی کی جھلک شیشہ میں سے تجھے نظر آئی ہے اور تو نے اسے پانی سمجھ لیا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کا نورا جرام فلکی میں سے جھلکا ہے اور لوگ انہیں خدا ہی سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نور سے نور حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ اس دلیل سے وہ فوراً متاثر ہوئی اور بے تحاشہ کہ اٹھی کہ اسلمت مع سليمان لله رب العالمین۔میں اس خدا پر ایمان لاتی ہوں جو سب جہان کا رب ہے۔یعنی سورج وغیرہ بھی اسی سے فیض حاصل کر رہے ہیں اور اصل فیض رساں وہی ایک ہے۔اب دیکھو یہ کیسا اہم اور فلسفیانہ مضمون ہے اور اس پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔مگر پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ بالوں والی پنڈلیاں دیکھنے کیلئے محل بنایا گیا تھا۔کیا جن عورتوں کی پنڈلیوں پر بال ہوں ان کی شادی نہیں ہوتی ؟ اور نبی ایسے حالات میں مبتلا ہو سکتا ہے؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے مضامین کی اہمیت کو قائم کیا اور اس کی طرف جو بے حقیقت امور منسوب کئے جاتے تھے ان سے اسے پاک قرار دیا۔(9) نویں غلطی یہ لگ رہی تھی کہ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کے بہت سے دعوے بے دلیل ہیں، انہیں دلائل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔مسلمان کہتے قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں۔اور دوسرے لوگ کہتے یہ بیہودہ باتیں ہیں، انہیں ہم