مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxiii
VI وہ رہے گا۔پھر اسے بھی اٹھالے گا اور ظالم اور جابر حکومت کا زمانہ آئے گا۔پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگئی۔اس کے بعد حضور خاموش ہو گئے۔آنحضرت ﷺ کی اس عظیم بشارت کی تفصیلات میں جانے کا موقع نہیں۔بہر حال چونکہ امت کے حالات ایسی شکل اختیار کر چکے تھے کہ مجدد جو محدود ماحول اور محدود بساط رکھتا ہے عالمی سطح پر امت کے دفاع ، تربیت و تنظیم کے عظیم مقاصد پورے نہیں کر سکتا۔اس لیے بشارت نبوی کے مطابق خلافت علی منہاج النبوت کی ضرورت لازمی شکل اختیار کر چکی ہے اور تیرھویں صدی کے بعد معمول کے مجدد کا ظہور یا بعثت نہ ہونا اس امر کا ثبوت ٹھہرتا ہے کہ اب امت کی وحدت اور استحکام کے معاملات خلافت علی منہاج نبوت کی ذیل میں آچکے ہیں۔اور یہی وہ عظیم الشان بشارت نبوی تھی۔کتاب ہذ اکرم نصیر احمد انجم صاحب استاذ جامعہ احمدیہ اور مکرم صفدر نذ یر گولیکی مربی سلسلہ نے بڑی محنت اور بڑی تحقیق کے بعد امت کے مجددین کرام کے سوانح و حالات سے قارئین کو باخبر کرنے کیلئے تیار کی ہے۔وہ مجددین جنہوں نے اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے ماحول میں امت کی راہنمائی کیلئے علمی و تربیتی کاوشیں کیں اور امت کے اندرونی ماحول کی فضا بھی اکثر ان کیلئے سازگار نہ تھی۔لیکن اپنی بعثت کے تقاضے جان جوکھوں سے انہوں نے پورے کئے۔فجز اھم اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مرتب کنندگان کو اجر عظیم عطا فرمائے جنہوں نے آج تک معروف مجددین کے حالات یکجا پیش کر دیئے جن کو دنیا اس وقت بھول چکی اور ان کے پاک کرداروں سے لاتعلق ہوئی بیٹھی ہے۔اور خلافت علی منہاج النبوۃ کی قدر و اہمیت سے فیضیاب ہونے کیلئے تیار نہیں اور کوئی نہیں سوچتا کہ ایسی بے نیازی کے بعد امت کی وحدت کیونکر قائم ہو سکے گی۔