مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page xxxi
IV (ج) لهذه الامة میں مسجد دین کے دائرہ کار کی بابت واضح راہنمائی ہے کہ ان کی سوچیں اور مساعی جمیلہ فرقہ بندی سے بالا اور آزاد ہیں۔جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوں تو خدا تعالیٰ کی مخلوق میں امتیاز اور تفریق کے روادار کیسے ہو سکتے ہیں۔پس وہ نہ کسی فرقہ میں شمار ہوں گے اور نہ کسی فرقہ کو وجود میں لائیں گے۔(۴) امت کا دائرہ غیر محدود ہے اور قومیت، علاقائیت اور نظریات کی حدود سے بالا ہے۔اس لئے جہاں بھی امت کا وجود ممکن ہوسکتا ہے وہاں ھذہ الامۃ کا عنوان صادق آتا ہے اور مجددیت کا دائرہ اس پر حاوی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر صدی کے مجدد تک بات محدود ہوتی تو تیرہ چودہ مجد دین تک تعداد محدود رہتی۔لیکن چونکہ امت کی حدود متعین نہیں اس لیے مجد ڈین کی تعداد بھی غیر معین ہیں۔ہر علاقہ اور ہر ملک اور قوم میں مسجد دین ظاہر ہوتے رہے۔بعض معروف ٹھہرے تو بنیادی فہرست اور شمار میں آگئے۔بعض معروف نہ ہوئے تو شمار میں نہیں آئے۔لیکن حسب بشارت نبوی ان کی بعثت دنیا بھر میں ہوتی رہی۔یہ پہلو لهذه الامة کا بہت ایمان افروز ہے۔چنانچہ اس کی تصدیق اگلے الفاظ میں ملتی ہے۔(۵) على راس كل مائة سنة۔یعنی ہر صدی کے سر پر مجدد مبعوث ہوتا رہے گا۔یہاں کل“ کا لفظ اگر استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی مضمون واضح رہتا کہ صدی کے سر پر مبعوث ہوا کرے گا۔لیکن چونکہ مختلف علاقوں اور قوموں میں سالوں اور صدیوں کا شمار الگ ہے۔اسلامی تقویم کے مطابق سن ہجری سے صدی کا حساب ہوتا ہے۔عیسوی تقویم کے مطابق سال اور صدی کا حساب الگ ہے۔ہندی، ایرانی تقویم الگ الگ ہیں۔اسی طرح اور بہت سی علاقائی و قومی سطح پر سال اور صدی کا حساب چلتا ہے۔اگر فرمان نبوی اور بشارت نبوی میں صرف اسلامی تقویم کے مطابق صدی کے سر پر مجدد نے آنا تھا تو على راس مائة سنة سے مقصد پورا ہوسکتا تھا۔لیکن امت صرف اسلامی بلاک تک تو محدود نہیں۔بلکہ دنیا بھر میں امت کا پھیلاؤ ہے۔تو کیا اسلامی بلاک سے باہر بھی صدی کے سر پر مجددین آئیں گے یا نہیں ؟ اس کا جواب ”کل “ کے لفظ میں موجود ہے کہ جہاں جہاں اور جس وقت کوئی صدی پوری ہوکر نئی صدی شروع ہوگی۔تو امت کی نمائندگی اگر اس معیار پہ ہے کہ تجدید کی ضرورت حقہ ہے