مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 203 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 203

عليها بالزوال“۔203 اس زمانہ میں اگر ہمارے بھائیوں علماء ہند کی توجہ علوم حدیث کی طرف نہ ہوتی تو اس پر زوال کی موت آجاتی۔مدینہ سے واپسی پر آپ نے درس حدیث شروع کیا تو پرانی دہلی میں مدرسہ رحیمیہ میں اپنے والد صاحب کی جگہ پڑھانے لگے۔لیکن جب چند ہی دنوں میں اطراف و جوانب سے طالبانِ علم پہنچنے لگے تو یہ درسگاہ چھوٹی ہوگئی۔چنانچہ محمد شاہ نے ایک عالیشان مکان مدرسہ کیلئے دے دیا۔آپ نے لوگوں کو عجمی رسومات سے بچنے اور رسول اللہ ﷺ کے طریق کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔شکر نعمت او است که بقدر امکان عادات و رسوم عرب اول که منشاء آنحضرت مو هست را از دست ندهیم اس سب سے بڑی نعمت کا شکر یہی ہے کہ حتی الوسع عرب اوّل کی عادات و رسوم جو آنحضرت ﷺ کا منشاء ہے اس کو ہم اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔پھر فرمایا:- رسوم عجم و عادات ہند و را در میان خود نگذاریم - 2 ہمیں چاہیے کہ عجم کی رسمیں اور ہندوؤں کی عادتیں اپنے اندر کسی طرح باقی نہ رکھیں۔آپ کا معمول تھا کہ درس حدیث سے پہلے درس قرآن دیتے اور صرف متن قرآن کا درس آپ کی ایجاد ہے۔اس زمانے میں علماء اپنی من گھڑت تفاسیر کو بیان کرتے تھے لیکن آپ نے متن قرآن کو لوگوں میں پھیلایا۔اپنے رسالے وصیت نامہ میں فرمایا : - قرآن عظیم کا درس دینا چاہیے۔اس طریقہ سے کہ صرف قرآن کریم پڑھا جائے یعنی تفسیر کے بغیر صرف متن قرآن اور ترجمہ پڑھا جائے۔1 اس زمانے میں ہند میں باطل تصوف غالب آرہا تھا۔تعویذ گنڈے اور پیر پرستی کا رواج بڑھ رہا تھا۔آپ نے اپنی کتاب الطاف القدس اور السطحات میں تصوف کی صحیح تصویر پیش کی اور تعویذ گنڈے کے متعلق "القول الجمیل تحریر کی۔اگر توجہ اور انصاف سے ان کتب کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل کرنے