مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 178
178 بلند روحانی مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں آپ کا تذکرہ کیا ہے۔آپ کی کتب خصوصاً مکتوبات کے حوالے دیئے ہیں۔آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ولی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک مجاہدہ کش جیسے حضرت بابا فرید شکر گنج اور دوسرے محدث جیسے ابوالحسن خرقانی محمد اکرم ملتانی مجدد الف ثانی وغیرہ یہ دوسرے قسم کے ولی بڑے مرتبے کے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے بکثرت کلام کرتا ہے میں بھی ان میں سے ہوں“۔ہے آپ صاحب کشف والہام بزرگ تھے اور زیارت رسول سے مشرف ہو چکے تھے۔چنانچہ 27 رمضان المبارک 1010ھ بروز سوموار ظہر کے بعد مراقبے میں تھے معاً آپ نے خود کو ایک خلعتِ نورانی میں لیٹے ہوئے پایا۔اسی اثناء میں صاحب لولاک سید المرسلین ﷺ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے مجددالف ثانی کے سر پر دستار باندھی اور منصب قیومیت کی مبارکباد دی۔۔۔۔اسی طرح ایک مرتبہ آپ قبرستان گئے اور فاتحہ کے بعد امام رفیع الدین کے مزار پر کھڑے ہو کر قبرستان کی مغفرت کیلئے دعا مانگی۔تب الہام ہوا کہ ایک ہفتہ کیلئے ہم نے قبرستان سے عذاب اُٹھالیا ہے۔آپ اپنے رب کی لامتناہی رحمتوں کا ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ القاء ہوا کہ ہم نے تیری خاطر اس قبرستان سے قیامت تک عذاب اُٹھالیا۔ھے یہ واقعہ اگر چہ بلاتر و قبول نہیں کیا جاسکتایا تو یہ شفی نظارہ تھا اور آپ کو بتایا گیا ہو کہ جس طرح ان مردوں کو آپ کے ذریعہ جنت ملی ویسے ہی آپ کی عملی زندگی میں روحانی مُردے آپ کی تعلیمات اور تجدید سے بیدار ہوں گے اور جہالت کی ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں گے۔اگر اس کو ظاہری ہی مانا جائے تو پھر اُن معترضین کا جواب یہ واقعہ بن سکتا ہے جو بہشتی مقبرہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے دنیا میں ہی پیسے والوں کو جنت عطا کی ہے۔یہاں تو رقم خرچ کرنی پڑتی ہیں اس کے علاوہ وصیت کی کڑی شرائط ہیں۔لیکن اس واقعہ کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک بار دُعا کے نتیجے میں ہی سارے قبرستان سے قیامت تک عذاب ٹال دیا گیا۔