مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 130
130 تصانیف آپ نے علوم و معارف سے بھر پور چند کتب اپنی یا گار چھوڑی ہیں۔ا۔انیس الارواح۔یہ آپ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمۃ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے جو آپ نے ترتیب دیا ہے۔۲۔دیوانِ معین ۱۳۱ غزلوں پر مشتمل یہ دیوان جو آپ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ان۔کی مشہور رباعی ہے۔شاہ ہست حسین و بادشاه هست حسین حسین شاہ اور بادشاہ ہیں۔آپ دین اور دین است حسین و دین پناہ ہست حسین دین کی پناہ ہیں۔آپ نے سر دے دیا سردادنه داد دست در دست یزید لیکن یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیا۔حق حق کہ بنائے لا الہ است حسین یہ ہے کہ توحید باری کی بنیاد حسین ہیں۔- گنج الاسرار - یہ کتاب آپ نے خواجہ عثمانی ہارونی ” کے ارشاد پر اتش بادشاہ کی تربیت کیے ہیں۔۴۔احادیث المعارف ۵۔رسالہ وجودیہ دلیل العارفین - اس میں خواجہ صاحب کے ملفوظات ہیں جو حضرت بختیار کاکی نے جمع فنافی الرسول آپ رسول کریم ﷺ کے عاشق صادق تھے۔بلکہ فنافی الرسول تھے اور بروز محمد ہے تھے۔چنانچہ حسنات العارفین میں لکھا ہے ایک شخص نے خواجہ صاحب سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مرید ہو جاؤں۔کہ لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ کہو۔اس نے ایسا ہی کہا۔خواجہ صاحب نے اسے مرید ۱۵ کر لیا۔شام اس سے آپ کے مقام روحانیت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس میں آپ نے بروز کا مسئلہ حل کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو پانا چاہتے ہو تو پوری طرح میری متابعت کرو۔آج احمد یوں رسول