مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 114
114 حضرت شیخ عبد القادر جیلانی" کا مقام مقام انعام تھا مقام ابتلا نہیں تھا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا: - ابتلاء اور ہوتے ہیں اور جزاء اور ہوتی ہے۔اور بعض جزا ئیں تو ایسی ہوتی ہیں جو اعلیٰ درجہ کے روحانی مقامات حاصل کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر ملتی ہے۔جیسے حضرت سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر تجھے میری ذات ہی کی قسم کہ یہ کھانا کھا اور میں کپڑ انہیں پہنتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر تجھے میری ذات ہی کی قسم کہ یہ کپڑا پہن۔یہ ابتلاء والا مقام نہیں بلکہ ایک روحانی عہدہ حاصل کرنے کا انعام ہے۔ان لوگوں کو سراء اور ضَرَّاء میں گزر کر اللہ تعالیٰ ان کے اخلاق اور ان کے اندرونہ کو دنیا پر اچھی طرح ظاہر کر دیتا ہے۔اس لیے یہ ضرورت نہیں رہتی کہ ان پر ابتلاء وارد کیے جائیں۔لیکن تمام لوگوں کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ان کے دل پر کبھی گناہوں کی وجہ سے اتنا زنگ لگ جاتا ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فراخی کا ان پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے آنے والی مشکلات ان میں تغیر پیدا کرتی ہیں وہ اندھے پیدا ہوتے ہیں اور اندھے ہونے کی حالت میں ہی اس جہاں سے گزر جاتے ہیں۔ہے حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی کتب توحید سے بھری ہوئی ہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا:- سید عبدالقار جیلانی ہیں ان کی کتابوں میں توحید ہی تو حید بھری ہوئی ہے۔اب اگر ان کے معتقد شرک کرنے لگ جائیں تو کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا۔اگر کوئی کہے کہ میں جیلانی صاحب کا معتقد ہوں تو ہم آپ کی کتابیں نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے کہ دیکھو آپ تو بڑے موحد تھے۔تمہیں بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔گویا مسلمانوں کی غلطیوں کو ظاہر کرنے کے مواقع موجود ہیں“۔۳۷