مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 95
95 حضرت امام غزالی کے زمانہ کے پیر زادے اور فقراء امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانے کے پیر زادوں اور فقیروں کے عجیب عجیب حالات لکھے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ افسوس ہے بڑی ابتری پھیل گئی ہے کیونکہ یہ فقیر جو اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں وہ فقیر اللہ نہیں بلکہ فقیر الخلوق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہر حرکت و سکون ، لباس، خوردونوش اور کلام میں حکمت پر عمل کرتے ہیں۔مثلاً کپڑوں کیلئے وہ دیکھتے ہیں کہ اگر ہم عام غریبوں کی طرح گزی گاڑھے کے کپڑے پہنیں گے تو وہ عزت نہ ہوگی جو امراء سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہم کو کم حیثیت اور ادنی درجہ کے لوگ سمجھیں گے۔لیکن اگر اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنتے ہیں تو پھر وہ ہم کو کامل دنیا دار سمجھ کر توجہ نہ کریں گے اور دنیا دار ہی قرار دیں گے۔اس لیے اس میں یہ حکمت نکال لی کہ کپڑے تو اعلیٰ درجہ کے اور قیمتی اور باریک لے لیے لیکن ان کو رنگ دے لیا جو فقیری کے لباس کا امتیاز ہو گئے۔اسی طرح حرکات بھی عجیب ہوتی ہیں۔مثلاً جب بیٹھتے ہیں تو آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں اور اس حالت میں لب ہل رہے ہیں گویا اس عالم میں نہیں ہیں حالانکہ طبیعت فاسد ہوتی ہے۔نمازوں کا یہ حال ہے کہ بڑے آدمیوں سے ملیں تو بہت ہی لمبی لمبی پڑھتے ہیں اور بطور خودسرے سے ہی نہ پڑھیں۔ایسا ہی روزوں میں عجیب عجیب حالت پیش آتے ہیں۔مثلاً یہ ظاہر کرنے کیلئےکہ نفلی روزے ہم رکھتے ہیں وہ یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ جب کسی امیر کے ہاں گئے اور وہاں کھانے کا وقت آگیا تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کھائیے مجھے کچھ عذر ہے۔اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہوئے کہ مجھے روزہ ہے۔اس طرح پر وہ گویا اپنے روزوں کو چھپاتے ہیں اور دراصل اس طرح پر ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہر کریں کہ ہم نفلی روزہ رکھتے ہیں۔غرض انہوں نے اپنے زمانہ کے فقراء کے اس قسم کے بہت گند لکھے ہیں اور صاف طور پر لکھا ہے کہ ان میں تکلفات بہت ہی زیادہ ہیں۔ایسی حالت میں اس زمانہ میں بھی قریب قریب واقع ہوگئی ہے۔جولوگ ان پیروں اور پیرزادوں کے حالات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ قسم قسم کے تکلفات اور ریا کاریوں سے کام لیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اسی سے امید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کیلئے درست کرتا ہے اور اس طرح پر درست کرتا ہے جس