مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 64
64 ۴۔اسی طرح مدلس، مستور الحال اور مجاھیل احادیث کو حنفی ثقہ راوی کی بنیاد پر قبول کر لیتے تھے۔مگر امام صاحب کے نزدیک شکوک و شبہات والی احادیث نا قابل اعتبار ہیں اور انہیں قوانین شریعت کا ماخذ قرار دینا غلطی ہے۔۵۔صحت حدیث کیلئے آپ نے یہ شرط لگائی کہ جو حدیث خلاف عقل ہو وہ نا قابل اعتبار ہے اور اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے اگر میں تمہیں کوئی ایسی بات کہوں جو تمہاری عقل کے مخالف ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کرو کیونکہ صحیح بات وہی ہے جو عقل کے خلاف نہ ہو۔۔حنفی کوفے والوں کی احادیث پر اصرار کیا کرتے تھے مگر امام شافعی صحیح احادیث پر زور دیتے تھے خواہ جس شہر سے بھی ملے۔آپ نے امام احمد سے فرمایا فان كان خبر صحيح فاعلموني حتى اذهب اليه كوفيا كان او بصريا او شاميا“۔اگر حدیث صحیح ہو تو مجھے اس سے آگاہ کرو تا کہ میں اس کو لے لوں خواہ کوفے کی ہو، بصرہ کی ہو یا شام کی ہو۔ے۔دو متعارض احادیث میں بھر پور کوشش کرتے کہ تطبیق ہو سکے۔اس کیلئے آپ نے ایک رسالہ بھی لکھا جس کا نام اختلاف الحدیث ہے۔امام شافعی کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو حجیت سنت کے منکر تھے۔بعض لوگ سرے سے سنت کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔بعض احکام قرآن سے ماوراء سنت کے احکام مثبتہ کا انکار کرتے تھے۔ان کے نزدیک سنت مبین قرآن تو ہے اس پر اضافہ نہیں کر سکتی۔بعض خبر احاد کی حجیت کے منکر تھے۔امام شافعی نے دلائل سے ثابت کیا کہ سنت حجت ہے خواہ خبر احاد ہی کیوں نہ ہو بشر طیکہ اس کے راوی ثقہ ہوں۔کتاب الام میں اس کی تفصیلی بحث موجود ہے اور آپ کی اس بارہ میں الگ تصنیف بھی ہے۔آپ نے متعدد قرآنی دلائل سے حجیت سنت ثابت کی ہے۔مثلاً خدا نے اپنے ساتھ رسول پر ایمان اور اس کی پیروی کو لازمی قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے فامنوا بالله و رسوله۔۔۔۔۔و اتبعوه لعلكم تهتدون۔پس رسول اللہ کے اقوال و افعال و تقریرات کی اطاعت واجب ہوئی۔اسی طرح رسول اللہ کا ایک کام حکمت کتاب کا بیان ہے اور اس سے مراد سنت نبوی ہے۔رسول کی اطاعت در اصل خدا کی اطاعت ہے من يطع الله فقد اطاع اللہ۔