محامد خاتم النبیین ﷺ و نذرانہء دُرود و سلام — Page 12
۱۲ " حضر ت ا ال ا ل کو علاوہ کسی کونہیں بلا وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو ، وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض و کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی است الانبیاء سيد الاحياء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا۔اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولا ہمارے ہادی بنی امی صادق مصدق محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی " ( آئینہ کمالات اسلام م ) نت ” مجھے بتایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔