دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 82 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 82

82 وو کے الفاظ میں اپنے الفاظ شامل کر رہے تھے۔یہ الہام حقیقۃ الوحی اور براہین احمدیہ میں درج ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں : ” سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا “ ( تذکرہ صفی ۶۳ ۵۴۳۰) اور اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر گز آنحضرت ﷺ کی معراج کو اپنی طرف منسوب نہیں فرمایا بلکہ اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے۔وو پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے مقامات معرفت اور یقین تک لدنی طور سے پہنچایا۔" (روحانی خزائن جلد اصفه۲۰۰ حاشیه در حاشیه ۳) ان الفاظ کو پڑھ کر کسی ذی ہوش کے دل میں گمان نہیں پیدا ہوسکتا کہ معراج کو اپنی طرف منسوب کیا گیا ہے۔مفتی محمود صاحب کا یہ الزام جھوٹ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔پھر مفتی محمود صاحب نے کہا: (11) اسی معراج کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى پھر قریب ہوا، تو بہت قریب ہو گیا، دو کمانوں یا اس سے بھی قریب تر مرزا غلام احمد نے یہ آیت بھی اپنی طرف منسوب کی ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۶) پہلی بات تو یہ ہے کہ مفتی محمود صاحب نے آیت اور الہام دونوں کی عبارت غلط پڑھی تھی۔اصل عبارت یہ ہے ثمّ دنی فتدلی الہام کی پوری عبارت یہ ہے اور حقیقۃ الوحی میں جہاں یہ الہام درج ہے وہاں پوری عبارت یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت آدم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی اور اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے:۔میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔وہ خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان کا خط ہوتا ہے۔(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۹ )