دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 70 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 70

70 حوالہ پڑھا جائے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھ سکتا تھا۔مفتی محمود صاحب نے حوالہ پڑھا کہ حضرت مسیح موعود نے کتاب البریہ میں بیان فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔مفتی محمود صاحب نے پورا حوالہ نہیں پڑھا۔اس حوالے میں بعینہ وہ مضمون بیان کیا گیا ہے جو کہ ایک حدیث نبوی میں بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کشف کے بیان میں فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اللہ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: چنانچہ اس کی گرفت سے میں بالکل معدوم ہو گیا اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے اعضاء نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۵،۱۰۳) اس کشف میں وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔ایک شخص نوافل کے ذریعہ اللہ کا اتنا قرب حاصل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور۔اس کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع)۔اگر اس کشف کے مضمون پر اعتراض کیا جائے گا تو اس حدیث پر بھی اعتراض اٹھے گا اور جیسا کہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ یہ کشف ہیں اور کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔آپ نے اس بارے میں جو دلائل بیان فرمائے تھے مفتی محمود صاحب ان کا کوئی جواب نہیں دے سکے۔لیکن ہم ایک معروف بزرگ ابوالحسن خرقانی کا حوالہ درج کرتے ہیں جو حقیقی زندگی میں پیش