دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 66 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 66

66 اعتراض کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بروز قرار دیا مفتی محمود صاحب ایک اعتراض پیش کرتے اور اس کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل پیش نہ کر سکتے یا پھر جعلی اور نامکمل حوالہ پیش کرتے یا ایسی دلیل پیش کرتے جس کا جواب سوال و جواب کے دوران دیا جا چکا ہوتا۔دلائل کا فقدان انہیں اس بات پر مجبور کر دیتا کہ وہ جلد دوسرے اعتراض پر بات شروع کر دیں۔اس مرحلہ پر انہوں نے یہ اعتراض پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے بروز ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کے حق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام پیش کیا أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ بِرُوزِى مناسب ہوتا اگر مفتی محمود صاحب یہ اعتراض اٹھانے سے قبل لغت میں بروز کے معنی دیکھ لیتے۔اللہ تعالیٰ کا بروز ہونے کا مطلب تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہونے کا ہے۔تمام اولیاء اور انبیا ء زمین پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتے ہیں۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اعتراض مفتی محمود صاحب کی طرف سے کیا جارہا تھا جو اپنے حلقہ میں عالم سمجھے جاتے تھے۔وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ یہ بات تو کئی مرتبہ صوفیاء کے حلقوں میں زیر بحث آئی تھی کہ بروز کا مطلب کیا ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کے نام سے تو پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے لوگ واقف ہوں گے۔ان کی مجلس میں بھی یہ بات زیر بحث آئی کہ بروز کا مطلب کیا ہے؟ چنانچہ آپ کی خدمت میں ایک کتاب فواتح مصنفہ ملاحسین بن معین الدین نیزی پیش کی گئی تھی جس میں بروز کی حقیقت پر بحث کی گئی تھی۔اس میں ” بروز “ کی تعریف کے بارے میں لکھا تھا ” بروز یہ ہے کہ ایک روح دوسری اکمل روح سے فیضان حاصل کرتی ہے۔جب اس پر تجلیات کا فیضان ہوتا ہے۔تو وہ اس کا مظہر بن جاتی ہے۔“ ( اشارات فریدی مقابیس المجالس مرتبہ مولانا رکن الدین ترجمه واحد بخش سیال ناشر بزم اتحاد المسلمین لاہور رجب ۱۴۱۰ ۵ صفحه ۴۱۸)