دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 1 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم جیسا کہ گزشتہ کتاب میں اس بات کا تفصیلی تجز یہ پیش کیا جا چکا ہے کہ قومی اسمبلی کی اس پیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کا محضر نامہ پڑھا گیا اور اس پر سوالات کا سلسلہ چلا۔پھر ۲۷ اور ۲۸ /اگست کو غیر مبایعین احمدی احباب کے وفد سے سوال و جواب ہوئے۔اس کے بعد مزید آٹھ روز تک اس سپیشل کمیٹی کے مزید اجلاسات ہوئے۔بند دروازوں کے پیچھے ان اجلاسات میں کیا ہوا یہ اپنی ذات میں تفصیلی تجزیہ کا تقاضہ کرتا ہے۔دنیا بھر کی پارلیمنٹوں میں سپیشل کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں لیکن یہ کارروائی اپنی ذات میں بالکل انوکھی طرز کی کارروائی تھی۔پہلی وجہ تو بالکل واضح ہے کہ یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا تھا کہ ایک اسمبلی اپنے زعم میں یہ فیصلہ کر رہی تھی کہ کسی گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہیے یا یہ کہ اسے کس مذہب کی طرف منسوب ہونے کا حق حاصل ہے لیکن اس مرحلہ تک یہ کارروائی عجیب افرا تفری کا شکار ہو چکی تھی۔خود پاکستان کی قومی اسمبلی نے پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی قائم کی تھی اور اس کے لیے یہ دائرہ کا رمقررکیا تھا کہ یہ پیشل کمیٹی یہ طے کرنے کی کوشش کرے گی کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں سمجھتا اس کی اسلام میں حیثیت کیا ہے؟ اور قواعد کی رو سے یہ پیش کمیٹی انہیں حدود میں کام کرنے کی پابند تھی۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے بعد گیارہ روز تک جماعت احمدیہ کے وفد سے سوالات کیے گئے لیکن اس طویل کا رروائی کے دوران سوال کرنے والے اور سوال اُٹھانے والے اصل موضوع سے گریز ہی کرتے رہے۔اب جب کہ یہ مرحلہ ختم ہو گیا تو یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ اب مختصر بحث ہوگی اور یہ پیشل کمیٹی اپنی تجاویز مرتب کر دے گی ، جنہیں مزید کاروائی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا لیکن عملاً یہ ہوا کہ اس مرحلہ کے بعد کارروائی مزید آٹھ روز تک چلتی رہی۔اس کارروائی کا پہلا حصہ وہ طویل تقریر تھی جو کہ جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالفین کی نمائندگی کرتے ہوئے جمیعت العلماء اسلام کے قائد مولوی مفتی محمود صاحب نے ۲۹/ اگست اور ۳۰ را گست کو سپیشل کمیٹی میں کی جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ پہلے جماعت احمدیہ کی طرف سے