دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 53
53 بعثت کے بعد ان کے پیروکار یہود سے خود علیحدہ ہو گئے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو یہود میں شمار کیا اور نہ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کے متبعین کو یہود میں سے سمجھا۔لب لباب یہ تھا کہ چونکہ احمدی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام امتی نبی تھے اس لیے اب انہیں کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہوں۔اب انہیں کسی علیحدہ مذہب کی طرف منسوب ہونا چاہیے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی متبعین کی مثال اپنی ذات میں دلچسپ ہے اور تفصیلی تجزیہ کا تقاضہ کرتی ہے لیکن ہم حقائق پیش کرتے ہیں جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ یا تو مفتی محمود صاحب مذاہب عالم کی تاریخ سے بالکل نا واقف تھے یا پھر اس مرحلہ پر وہ مجبور تھے کہ صریحاً غلط حقائق ممبران اسمبلی کے سامنے پیش کر کے اپنے آپ کو اور اپنے ہمنوا مولوی حضرات کو اس بندگلی سے نکالنے کی کوشش کریں۔دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ نبی مبعوث ہوئے تھے لیکن ہر ایک نبی نے ایک نئے مذہب کی بنیاد نہیں ڈالی اور نہ اس وقت دنیا میں ایک لاکھ کے قریب مذاہب ہوتے یا کم از کم کچھ ہزار مذاہب کا کوئی نام و نشان تو ملتا۔ہو سکتا ہے کہ مفتی محمود صاحب مذاہب کی تاریخ سے زیاہ واقفیت نہ رکھتے ہوں لیکن یہ باور کرنا مشکل ہے کہ مفتی محمود صاحب جو ایک مدرسہ سے بھی وابستہ تھے انہوں نے کبھی قرآن کریم کا مطالعہ بھی نہیں کیا تھا۔اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ آیت ۴۵ میں فرماتا ہے: یقیناً ہم نے تو رات اتاری اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔اس سے انبیاء جنہوں نے اپنے آپ کو (کلیے اللہ کے ) فرمانبردار بنا دیا تھا یہود کے لئے فیصلے 66 کرتے تھے۔یہ آیت کریمہ واضح طور پر اعلان کر رہی ہے کہ حضرت موسقی کے بعد بنی اسرائیل میں جو بہت سے انبیاء مبعوث ہوئے وہ سب تو ریت کی ہی پیروی کرتے تھے اور انہوں نے کسی نئے مذہب کی بنیاد نہیں ڈالی تھی۔کیا مفتی صاحب یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یکے بعد دیگرے جو بہت سے انبیاء مبعوث ہوئے تھے اور قرآن کریم اس بات پر گواہ ہے کہ بنی اسرائیل کی اکثریت