دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 152 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 152

152 خیبر تک برصغیر پر انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔اب انہیں اپنی عملداری میں کسی جہاد کا سامنا نہیں تھا۔اس لیے یہی بات مفتی محمود صاحب کے دعوے کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔مفتی محمود صاحب اب یہ دلائل دے رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کے قیام سے قبل نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں انگریزوں کو اس مسئلہ کا سامنا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان جذ بہ جہاد سے سرشار ہوکر ان سے برسر پیکار تھے۔یہ تو سب جانتے تھے کہ جماعت احمدیہ کا قیام ۱۸۸۹ء میں عمل میں آیا۔ہم مختصر آ چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے صورت حال بالکل واضح ہو جائے گی کہ جماعت کے قیام سے قبل عالم اسلام میں انگریزوں کی حکومت کے بارے میں کیا فتاویٰ دیئے جا رہے تھے۔ڈبلیو۔ڈبلیو۔ہنٹر کی کتاب The Indian Mussalmans کے آخر میں اس بارے میں کئی فتاوی درج کیے گئے ہیں۔یہ کتاب ۱۸۷۱ء میں لکھی گئی تھی۔دیکھتے ہیں ان فتاوی میں پہلا فتویٰ کیا تھا؟ اور کس نے دیا تھا ؟ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اگر ایک فتویٰ میں ایک ملک کو یا حکومت کو دارالاسلام قرار دیا جائے تو اس ملک میں اور اس حکومت کے خلاف جہاد جائز نہیں اور جس ملک کو دارالحرب قرار دیا جائے اس کے خلاف جہاد جائز ہوتا ہے۔اس کتاب کے Appendix میں جو پہلا فتویٰ درج ہے وہ مفتی مکہ جمال ابن عبد اللہ شیخ عمر الحنفی کا تھا۔اور وہ فتویٰ یہ تھا کہ انگریزوں کی حکومت میں ہندوستان دارالاسلام ہے۔اور پھر مکہ میں شافعی اور مالکی مسلک کے علماء کے فتاویٰ درج ہیں کہ انگریزوں کے تحت ہندوستان دارالاسلام ہے۔اس کے آگے بھی ایک فتویٰ درج ہے جو کہ شمالی ہندوستان کے علماء نے دیا تھا جن سے سوال پوچھا گیا تھا کہ پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی اور اب عیسائیوں کی حکومت قائم ہوگئی لیکن ان کے تحت نماز روزہ حج وغیرہ کی اجازت ہے۔اب کیا ان کے خلاف جہاد جائز ہے۔اس کے جواب میں مختلف شہروں کے علماء کا مشتر کہ فتویٰ تھا کہ عیسائی مسلمانوں کی حفاظت کر رہے ہیں اس لیے ان کے خلاف جہاد جائز نہیں ہے یہ فتویٰ ۱۸۷۰ء کا ہے۔پھر اس کے بعد کلکتہ محمدن سوسائٹی کا اعلان درج ہے جس میں کہا گیا تھا کہ