دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 147
147 کی طرف رجوع کرتے ہیں اور یہ تصریح کرتے ہیں کہ جو شخص تصوف کے ان باطنی اور نفسیاتی تجربات سے نہ گزرا ہو اس کے لئے ان کتابوں کا دیکھنا بھی جائز نہیں۔بسا اوقات ان کتابوں میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن کا بظاہر کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔بعض اوقات جو مفہوم بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے وہ بالکل عقل کے خلاف ہوتا ہے لیکن لکھنے والے کی مراد کچھ اور ہوتی ہے۔اس قسم کی عبارتوں کو شطحیات “ کہا جاتا ہے۔اس لئے کسی بنیادی عقیدے کے مسئلہ میں تصوف کی کتابوں سے استدلال ایک ایسی اصولی غلطی ہے جس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔“ ( کارروائی صفحہ ۲۰۰۷) ذرا ملاحظہ کیجیے مفتی محمود صاحب نے پہلے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اپنے موقف کی تائید میں بیسیوں آیات پیش کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔پھر حضرت محمد مصطفی علیہ کی ایک معروف حدیث کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا کہ اس میں مسلمان کی جو تعریف بیان فرمائی گئی ہے وہ جامع نہیں۔اب امت کے مجددین ، اولیاء اور سلف صالحین کے ارشادات رہ گئے تھے، ان کے بارے میں یہ دعویٰ پیش کر دیا گیا کہ عام آدمی کے لیے ان کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور بسا اوقات بادی النظر میں ان کا جو مطلب ہے وہ بالکل خلاف عقل ہوتا ہے۔اور ایسی تحریرات کا نتیجہ سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔احمدیت کی دشمنی میں یہ مولوی صاحبان اتنے بغض وعناد اور غیض وغضب کا شکار ہو چکے تھے کہ اس سے مغلوب ہوکر وہ اسلام کی ہر چیز کے خلاف کمر بستہ نظر آتے تھے۔آخر کن ہستیوں کے بارے میں یہ گستاخانہ رویہ اختیار کیا جا رہا تھا۔یہ بالکل غلط ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے صرف تصوف کی کتب کے حوالے پیش کیے گئے تھے۔یہ حوالے قرآن شریف کے علاوہ حدیث کی کتب کے بھی تھے تفسیر کی کتب کے بھی تھے۔ان میں حضرت علیؓ، حضرت عائشہ کے فرمودات بھی تھے۔حضرت امام باقر اور حضرت امام جعفر کے اقوال بھی شامل تھے۔ان حوالوں میں حضرت غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کا حوالہ بھی شامل تھا۔کیا مفتی محمود صاحب کے نزدیک ان سب علمی خزائن کا حاصل سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں تھا۔آخر مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنو اگر وہ کو واضح تو کرنا چاہیے کہ ان کا اشارہ ان ہستیوں میں سے