دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 71
71 آیا اور کشف نہیں ہے۔حضرت شیخ فریدالدین عطار لکھتے ہیں۔ایک دن کوئی صوفی ہوا میں پرواز کرتا ہوا آپ کے سامنے ( یعنی حضرت ابوالحسن خرقانی کے سامنے ) آ کر اترا اور زمین پر پاؤں مار کر کہنے لگا میں اپنے دور کا جنید اور شبلی ہوں۔آپ نے بھی کھڑے ہو کر زمین پر پاؤں مارتے ہوئے فرمایا میں بھی خدائے وقت ہوں۔“ ( تذكرة الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار۔الحمد پبلیکیشنز لا ہور۔۲۰۰۰ صفحہ ۴۳۵) اور یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ حضرت بایزید بسطامی نے کہا تھا کہ میرے جسے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ نہیں۔(سیر الاولیاء، تصنیف سید محمد مبارک علوی کرمانی ، شائع کردہ اردو سائنس بورڈ، پانچواں ایڈیشن ۲۰۰۴ صفحہ ۷۴۷ ) صوفیاء کے ان اقوال کی تو جیہہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قسم کے اقوال فنافی اللہ ہونے کی حالت میں کہے گئے تھے۔ان سے شرک مراد نہیں تھی۔خود تذکرۃ الاولیاء میں یہ بحث بار بار اٹھائی گئی ہے۔کیا صحیح تھا اور کیا غلط؟ کون سی روایت مکمل طور پر پیچ پہنچی اور کس میں کچھ آمیزش کی گئی ، یہاں اس بحث کا ذکر نہیں کیا جارہا لیکن دو امور قابل ذکر ہیں۔ایک تو یہ کہ اگر ان اولیاء کے مذکورہ اقوال پر اعتراض نہیں ہوسکتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الہامات اور ارشادات پر تو کسی قسم کے اعتراض کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دوسری یہ بات واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن تحریرات پر مفتی محمود صاحب اعتراض کر رہے تھے۔ان جیسی مثالیں تو بیسیوں اولیاء کے ارشادات میں دکھائی جاسکتی ہیں لیکن مولوی مزاج لوگوں نے ان اولیاء پر بھی کفر کے فتوے لگائے تھے کیونکہ خشک مولوی اہل اللہ کے ارشادات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی اسی جنون تکفیر سے مغلوب ہو کر حملے کیے جارہے تھے۔لقب میکائیل پر اعتراض: معلوم ہوتا جب مفتی محمود صاحب عجلت میں اعتراض پر اعتراض کر کے اپنے موقف میں جان پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس وقت کئی حوالے ایسے تھے جو کسی نے نامکمل حالت میں