دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 69 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 69

69 66 ہو گئے لیکن درحقیقت آپ نے یہ الفاظ لسان غیب سے فرمائے تھے۔“ (تذکرة الاولياء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار الحمد پبلیکیشنز لاہور۔۲۰۰۰ صفحہ ۱۳۱) پھر لکھا ہے: ایک مرتبہ حالت وجد میں آپ نے یہ کہہ دیا سبحانی ما اعظم شأنی یعنی میں پاک ہوں اور میری شان بہت بڑی ہے اور جب اختتام وجد کے بعد ارادت مندوں نے سوال کیا کہ یہ جملہ آپ نے کیوں کہا؟ فرمایا کہ مجھے تو علم نہیں کہ میں نے ایسا کوئی جملہ کہا ہو لیکن اگر آئندہ اس قسم کا کوئی جملہ میری زبان سے نکل جائے تو مجھے قتل کر ڈالنا۔اس کے بعد دوبارہ حالت وجد میں پھر آپ نے یہی جملہ کہا جس پر آپ کے مریدین قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے لیکن پورے مکان میں انہیں ہر طرف بایزید نظر آئے ( تذکرة الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار۔الحمد پبلیکیشنز لا ہور۔۲۰۰۰ صفحہ ۱۳۵) ایک بار کسی نے حضرت بایزید بسطامی سے عرش کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: عرش تو میں خود ہوں۔پھر کرسی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کرسی بھی میں خود ہوں اور پھر قلم کے متعلق بھی یہی فرمایا اس کے بعد سائل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے تو اور بھی مقرب بندے ہیں مثلاً حضرت ابراہیم اور حضرت موسی اور رسول اللہ ہے۔اس پر بھی آپ نے فرمایا کہ وہ بھی میں ہوں۔پھر سائل نے ملائکہ کے بارے میں پوچھا تو جب بھی یہی فرمایا (تذکرة الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار۔الحمد پبلیکیشنز لا ہور۔۲۰۰۰ صفحہ ۱۵۹) جب ان اولیاء کے ان اقوال کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد شرک نہیں لی جاتی بلکہ ان کی توجیہہ کی جاتی ہے۔اس پس منظر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کسی تحریر پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھ سکتا۔اس مرحلہ پر ایک بار پھر مفتی محمود صاحب وہ نامکمل حوالے پیش کر کے اعتراض اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے جن کا جواب حضرت خلیفہ امسح الثالث" پہلے ہی دے چکے تھے اور جب مکمل