دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 68 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 68

68 پھر جب لوگوں نے پوچھا کہ جب انا الحق خود آپ ہیں تو پھر نماز کس کی پڑھتے ہیں؟ فرمایا کہ اپنا مرتبہ ہم خود سمجھتے ہیں۔“ (تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار الحمد پبلیکیشنز لاہور۔۲۰۰۰ صفحہ ۳۸۹) اگر ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو بروز ہونا تو ایک طرف رہا یہ تو صاف خدائی کا دعویٰ ہے لیکن ان سب دعاوی کے باوجود حسین منصور حلاج کا نام تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ نہیں اور ان کو اولیاء میں شمار کیا گیا ہے کہ نہیں اور ان کی طرف سے ایسے معجزات منسوب ہیں کہ جب ان کو قتل کر دیا گیا اور جسم کے ٹکڑے بھی کر دیئے گئے تو ان ٹکڑوں سے بھی انا الحق کی آوازیں آ رہی تھیں جن کو لاکھوں لوگوں نے سنا۔اسی رو میں مفتی محمود صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام پر بھی اعتراض کر کے اسے گستاخی قرار دیا۔أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ تَوْحِيْدِي وَ تَفْرِيدِيْ حالانکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے: تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید “ (روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۱۲) ان مطالب کے ساتھ اس الہام پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔مناسب ہوگا کہ اس مرحلہ پر حضرت بایزید بسطامی کے کچھ اقوال و الہامات اور آپ کے متعلق کچھ اقوال پیش کیے جائیں۔حضرت شیخ فریدالدین عطار صاحب آپ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔وو مقام توحید میں تمام بزرگوں کی انتہاء آپ کی ابتدا ہے۔“ ( تذکرۃ الاولیاء مصنفہ حضرت شیخ فریدالدین عطار الحمد پبلیکیشنز لاہور ۲۰۰۰ صفحہ ۱۳۰) پھر آپ کے متعلق لکھا ہے: ایک دن نماز فجر کے بعد آپ نے لوگوں سے کہا کہ میں تو خدا ہوں اس کے با وجود بھی لوگ میری پرستش نہیں کرتے یہ سنتے ہی لوگ آپ کو پاگل سمجھ کر کنارہ کش