دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 61 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 61

61 تھی۔ان کے دل آپس میں مشابہ ہو گئے تھے۔ہم آیات کو یقین لانے والی قوم کے لیے خوب کھول کر بیان کرتے ہیں۔قائد اعظم کی نماز جنازہ اور مفتی محمود صاحب کا مضحکہ خیز جھوٹ اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ مسئلہ چھیڑ کر ممبران اسمبلی کے جذبات کو بھڑکانا چاہا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی لیکن وہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ یہ نماز جنازہ شبیر عثمانی صاحب کی امامت میں ادا کی گئی تھی جو کہ اپنی تحریروں میں احمدیوں کو مرتد بلکہ واجب القتل قرار دے چکے تھے اور جب ۱۹۵۳ء کے فسادات پر عدالتی کمیشن نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا بیان قلمبند کیا تو آپ نے اس حقیقت کی نشاندہی بھی کی تھی۔ان حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ احمدیوں نے اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ رکھا تھا بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ مخالف علماء حسب عادت جھٹ کفر اور واجب القتل ہونے کے فتوے جاری کر کے تفرقہ پیدا کرتے رہے تھے۔اس اعتراض سے بچنے کے لیے مفتی محمود صاحب نے ایک حوالہ گھڑا لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وہ ایسی غلطی کر گئے کہ جھوٹ واضح ہو گیا۔ان کا حوالہ من و عن درج کیا جاتا ہے۔مفتی محمود صاحب نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں کہا: لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں ادا نہیں کی ؟ تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا۔آپ مجھے کا فرحکومت کا مسلمان وز یر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کا فرنوکر“ زمیندار لا ہور ۸ فروری ۱۹۵۰ء) ( کارروائی صفحہ ۱۹۱۹) مفتی محمود صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تحقیقاتی عدالت میں بیان دے کر باہر نکلے تو انہوں نے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے یہ بیان دیا اور یہ بیان جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف اخبار زمیندار کو دیا گیا تھا اور یہ بیان ۸ فروری ۱۹۵۰ء کے زمیندار میں شائع ہوا تھا۔مخالفین کو کچھ تو عقل سے کام لینا چاہیے تھا۔یہ تحقیقاتی عدالت ۱۹۵۳ء