دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 60 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 60

60 جلد نمبر ۱۲ چل رہی تھی۔۱۹۰۲ء میں الحکم کی جلد نمبر ۱۸ کا کوئی وجود نہیں تھا۔مفتی محمود صاحب جعلی حوالوں کے علاوہ اب اپنے مفروضوں کو ثابت کرنے کے لیے ایسے حوالے پیش کرنے پر مجبور ہو رہے تھے جن کا ان مفروضوں سے دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔مفتی محمود صاحب نے یہ دعوی پیش کیا کہ نعوذ باللہ احمدی مسلمانوں نے خود اپنے آپ کو اسلام سے علیحدہ سمجھا ہے اور اس کے حق میں یہ حوالہ پیش کیا۔افسوس ان مسلمانوں پر جو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں اندھے ہو کر انہی اعتراضات کو دہرا رہے ہیں جو عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔بعینہ اسی طرح جس طرح عیسائی آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں اندھے ہو کر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور دہرارہے ہیں جو یہودی حضرت عیسی پر کرتے تھے۔بچے نبی کا یہی ایک بڑا بھاری امتیازی نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا جائے گا وہ سارنے نبیوں پر پڑے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کل سلسلہ نبوت کورد کرتا ہے۔“ (منقول از تبدیلی عقائد مولفه محمد اسماعیل صاحب قادیانی صفحه ۴۲) ( کارروائی صفحہ ۱۹۱۶) ہر کوئی اسے پڑھ کر خود جائزہ لے سکتا ہے کہ اس حوالے کا مفتی محمود صاحب کے مفروضے سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔اس حوالے کے کسی حصہ سے یہ مطلب نکالنا ممکن نہیں کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ امت مسلمہ سے علیحدہ رکھا ہے۔اس میں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ پر ان کے مخالفین اسی قسم کے اعتراضات کر رہے ہیں جس طرح کے اعتراضات عیسائی آنحضرت ﷺ پر کرتے رہے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام انبیاء پر ان کے مخالفین ملتے جلتے اعتراضات کرتے رہے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كَذَالِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهَمُ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يُوْقِنُونَ (البقرة:119) اسی طرح ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے ان کی قوم سے مشابہ بات کی