دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 217 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 217

217 بالآخر شیعہ احباب کی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ایک میٹنگ میں جو ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے بلائی گئی تھی یہ کہ کر مذاکرات کو ختم کرنا پڑا کہ کسی اسمبلی کسی عدالت یا کسی اور فورم کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کے ایمان کا فیصلہ کرے۔یادر ہے یہی موقف جماعت احمدیہ نے اپنے محضر نامہ میں پیش کیا تھا۔(Sectarian War, by Khaled Ahmaed, published by Oxford 2013 p22) مفتی محمود صاحب اور ان کی جماعت ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش تھی اور حقیقت یہ ہے کہ مفتی محمود صاحب کی جماعت کے اراکین نہ صرف ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑ کانے کا باعث بنے بلکہ ایسا ماحول پیدا ہوا جس سے برادر مسلم ممالک میں کشیدگی پیدا ہوئی۔اسی کتاب کا ایک اور حوالہ پیش ہے۔”سپاہ صحابہ نے شیعہ اقلیت کے متعدد افراد کوقتل کیا اور انھیں پاکستان میں اپنے عقائد کی وجہ سے غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔پاکستان کو ایک سنی ریاست بنانے اور یہاں خلافت قائم کرنے کی خواہشمند اس تنظیم کی نظریاتی وابستگی تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔پاکستان میں شیعہ اور ایرانی مفادات کو نشانہ بنانا اس کے اہم مقاصد میں شامل رہا ہے۔یہ تنظیم ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دینے میں بھی ملوث رہی ہے سپاہ صحابہ دراصل جمیعت علماء اسلام کی ایک ذیلی شاخ کی طرح ہے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ ۱۸۰) یہ شدت پسندی صرف زبانی کفر کے فتاوی تک محدود نہیں رہی بلکہ پھوٹ ڈالنے کی اس مہم نے ایسا خوفناک رنگ اختیار کیا کہ جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجاہد حسین صاحب نے اپنی کتاب میں ایک اشتہار کی نقل شائع کی ہے جس میں ایک شدت پسند تنظیم نے مسلمانوں کے ایک فرقہ کو یہ دھمکی دی ہے کہ وہ اسلام کی آڑ میں دین اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔اب انہیں ان میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دیں یا یہاں سے ہجرت کر جائیں۔ور نہ ان کی جائیدادوں اور عبادت گاہوں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور ان کی عورتوں کو کنیزیں بنالیا جائے